خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 365

خطبات محمود جلد (5) ۳۶۴ ہو جانا اور سب کاموں کو جو قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔سب افراد قوم کا مل کر سر انجام دینا بھی ضروری ہے۔دوسروں سے امتیاز حاصل کرنے کے لئے اس طرح کرنا از حد ضروری اور لازمی ہے ورنہ اس کے بغیر کبھی ترقی نہیں ہو سکے گی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں اس بات کی ابھی کمی ہے۔اگر چہ فردا فردا بہت لوگ کوشش کرنے والے ہیں مگر سب نے مل کر اس کام کے کرنے کی کوشش نہیں کی جو ان کا متفقہ کام قرار دیا گیا ہے۔یوں تو جماعت کے جلسے ہوتے ہیں۔سالانہ جلسہ پر ایک اجتماع عظیم ہوتا ہے پہلے سے زیادہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔آپس میں محبت بھی ہے اتفاق بھی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے۔کہ دین کی خدمت کا کوئی کام سپر دہو تو اس کے کرنے میں کسی کو عذر نہ ہو۔اور دینی خدمت سے نہ کوئی بچہ باہر رہے نہ عورت نہ جوان مرد اور نہ بوڑھا۔جمیع کا لفظ جو اس آیت شریفہ میں آیا ہے وہ بتاتا ہے کہ دینی خدمت سے قوم کا کوئی فرد با ہر نہیں رہنا چاہیئے۔اصل بات یہ ہے کہ خواہ کتنا ہی اتفاق و اتحاد ہوا گر سب ایک کام کو انجام دینے میں مصروف نہ ہوں۔تو جماعت کی ترقی رک جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب ایک قوم بگڑتی ہے۔تو خدا کی طرف سے ایک مامور آتا ہے۔اور سب کو ایک مقصد اور مدعا پر جمع کر دیتا ہے۔اگر چہ اس کے وقت پہلی ہی شریعت ہوتی ہے۔اور پہلی ہی نماز روزہ۔تاہم وہ اپنی جماعت کو دوسرے لوگوں سے الگ کر لیتا ہے اس کی کیا وجہ ہے کہ الگ جماعت بنائی جاتی ہے۔کیوں دوسروں کے ساتھ ہی مل کر کام نہیں کیا جاتا۔بظاہر تو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے مل کر کام کیا جائے مگر در حقیقت ان لوگوں سے مل کر کام کرنا اس جماعت کو بھی ضائع کرنا ہے۔کیونکہ جب ان ست لوگوں سے مل کر کام کیا جائے جن کی شستی کے سبب سے خدا تعالیٰ نے ایک نئی جماعت قائم کی ہے۔تو ضرور ہے کہ انکی مستیوں کا بھی اثر پڑے۔پس خواہ وہ لوگ جنہوں نے نبی کو قبول نہیں کیا ہوتا۔تعداد میں کتنے ہی زیادہ ہوں۔مگر پھر بھی اس نبی کی بنائی ہوئی جماعت کے برابر ہرگز دینی کام نہیں کر سکتے۔کیونکہ ان میں بہت سست ہوتے ہیں۔لیکن نبی کی جماعت میں کام کرنے والے بہت پچست ہوتے اور شست کم مثلا ایک گاڑی کے چار پہیتے ہوں اور دوسری کے دو۔تو جس گاڑی کے چار پہیہ ہوں۔اس کے اگر دوٹوٹ جائیں تو وہ چل نہیں سکتی۔لیکن وہ جس کے دو ہی پہیہ ہوں اور دونوں درست۔وہ اپنے دونوں پہیوں سے خوب چل سکے گی۔اگر کوئی کہے کہ کیا ہوا اس چو پہیہ گاڑی کے دو پہیہ نہیں رہے تو نہ سہی۔ابھی دو تو باقی ہیں۔پھر کیوں نہیں چلتی۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس چو پہیہ گاڑی میں تو ایک نقص آ گیا۔اور اس دو پہیہ والی میں کوئی نقص نہیں۔یہی مثال نبی کے مقابلہ والے اور نبی کی جماعت کے لوگوں کی ہوتی ہے۔غرض باوجود اس بات کے کہ نبی کی جماعت کے لوگ اس دو پہیہ گاڑی کی طرح تعداد میں کم ہوتے