خطبات محمود (جلد 5) — Page 359
خطبات محمود جلد (5) ۳۵۹ ہم سے ثواب میں بڑھ رہے ہیں ہم کیا کریں کہ ان کے برابر ثواب حاصل کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید نماز کے بعد کیا کرو۔کچھ عرصہ اس طرح کرنے کے بعد وہ پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ امراء نے بھی اس طرح کرنا شروع کر دیا ہے اور زکوۃ بھی دیتے ہیں اب ہم کیا کریں۔آپ نے فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ ان کو نعمت دیتا ہے اور وہ اس کی راہ میں دے کر ثواب حاصل کرتے ہیں تو میں کیا کروں یہ ان کی ہمت اور اخلاص ہے۔اے پس آپ لوگ بھی پورے طور پر کوشش کر کے زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کریں۔اگر کسی کے ذمہ کوئی فرض لگایا جائے اور وہ اس کو پورا کر دے لیکن اس کے کرنے کا کوئی اور کام ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بھی کرے اور بڑی خوشی کے ساتھ کرے اور اگر کوئی اس پر سختی کرے تو اسے بھی برداشت کرے اور کام کے کرنے میں ہرگز کوتا ہی نہ کرے۔اسی طرح وہ لوگ جو باہر سے آئے ہیں وہ یا درکھیں اور جو ابھی نہیں آئے انہیں پہنچا دیں کہ قادیان کی ہر ایک چیز شعائر اللہ ہے اس لئے ان سے ان کو بھی فائدہ اُٹھانا چاہئیے اور اپنے اوقات کو ادھر ادھر پھر کر رائیگاں نہیں کھونا چاہیئے اگر کوئی شخص یہاں آکر کوئی فائدہ نہیں اُٹھاتا تو سمجھ لے کہ وہ اپنے اوقات کو ضائع کرتا ہے پس آنے والا ہر ایک شخص اپنے اوقات کو فائدہ اُٹھانے میں لگائے۔نمازیں باجماعت پڑھے اور عبادت کرے۔خدا تعالیٰ یہاں کے میز بانوں اور مہمانوں کو اس موقع سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق دے تا کہ وہ تقوی کو حاصل کریں اور زیادہ بڑھائیں۔الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۱۷ء) نوٹ : ۲۹ دسمبر کے خطبہ کے بارہ میں الفضل ۳۰ دسمبر ۱۹۱۶ء کے ص ۲ پر لکھا ہے کہ :- مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لئے ابجے تک لوگ اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔پونے دو بجے اعلان ہوا کہ جمعہ باہر ( جلسہ گاہ مسجد نور میں ) ہوگا۔وہاں دوڑے دوڑے پہنچے۔دو بجے حضور نے مختصر خطبہ سورۃ العصر پر پڑھا۔“ بخاری کتاب الصلوة باب الذكر بعد الصلوة