خطبات محمود (جلد 5) — Page 357
خطبات محمود جلد (5) ۳۵۷ کی گئی تھی اس میں ڈالا ہو امٹی کا ایک ایک بورانشان ہے۔ یہاں، اتنا بڑا گڑھا تھا کہ ہاتھی غرق ہو سکتا تھا پھر قادیان سے باہر شمال کی طرف نکل جائے وہاں جو اونچی اور بلند عمارتیں نظر آئیں گی ان کی ہر ایک اینٹ اور چونے کا ایک ایک ذرہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان ہے۔ پھر قادیان میں چلتے پھرتے جس قدر انسان نظر آتے ہیں خواہ وہ ہندو ہیں یا سکھ یا غیر احمدی ہیں یا احمدی سب کے سب آپ ہی کی صداقت کے نشان ہیں۔ احمدی تو اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی صداقت کو دیکھ کر اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں مسیح کے ہو رہے ہیں اور غیر احمدی اور دوسرے مذاہب وا۔ مذاہب والے اس لئے کہ ان کی طرز رہائش لباس وغیرہ حضرت موعود کے دعوئی سے پہلے وہ نہ تھے جو اب ہیں۔ ان کی پگڑی ، ان کا گرتہ، ان کا پاجامہ، ان کی عمارتیں ، ان کا مال ، ان کی دولت وہ نہ تھی جو اب ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کرنے پر لوگ آپ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے بھی فائدہ اُٹھا لیا اور لا یشقی جليسهم لے کی وجہ سے ان کو بھی نعمت مل گئی تو یہ سب آپ کی صداقت کے نشانات ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں اسی مسجد کی یہ عمارت، یہ لکڑی، یہ کھمبا سب نشان ہیں کیونکہ یہ پہلے نہیں تھے جب حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا تو پھر بنے۔ پس لاکھوں نشانات تو یہاں ہی مل سکتے ہیں۔ پھر سالانہ جلسہ پر جس قدر لوگ آتے ہیں ان میں سے ہر ایک آنے والا ایک نشان ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ ہر سال ظاہر کرتا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کرتا رہے گا۔ تو حضرت مسیح موعود نے اپنے نشانات کا یہ بہت کم اندازہ لگایا ہے کہ وہ لاکھوں ہیں میں تو کہتا ہوں کہ وہ اس قدر ہیں کہ کوئی انسانی طاقت ان کو گن ہی نہیں سکتی صرف خدا تعالیٰ ہی کے اندازہ میں آسکتے ہیں۔ لیکن جہاں یہ نشانات ہمارے لئے تقویت ایمان کا موجب ہوتے ہیں وہاں اس آیت کے ماتحت یہ بھی بتاتے ہیں کہ اول ہر ایک آنے والا انسان آنکھیں کھول کر دیکھے کہ یہاں کس قدر نشانات ہیں اور پھر وہ خود بھی ایک نشان ہے۔ دوسرا یہ کہ تعظیم شعائر اللہ تقوی القلوب میں داخل ہے یعنی متقی ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے نشانات کی عزت و توقیر کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دلالت کرتے ہیں ۔ پس میں و جماعت کے اس حصہ کو جو ہجرت کر کے یہاں آگیا ہے نصیحت کرتا ہوں کہ یہ سالانہ جلسہ کے دن جوان کے لئے تازہ تازہ اور نئے نئے نشانات دیکھنے کا موجب ہوتے ہیں ان میں جہاں وہ اپنے ایمانوں کو تازہ کرتے اور خدا تعالیٰ کی حمد اور تقدیس کرتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیاں بڑے زور سے پوری ہو رہی ہیں وہاں ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آنیوالے مہمانوں کی تعظیم اور ا بخاری کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ عرب وجل