خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 356

خطبات محمود جلد (5) ۳۵۶ کرنے والوں کا اندازہ لگاؤ۔ کیا اس طرح کئی لاکھ آدمی نہیں بنتے بھتیجوں نے یہ سنکر کہا کہ ہاں ٹھیک ہے یہ بات ان بچوں کی سمجھ میں نہ آئی تھی لیکن وہ شخص چونکہ عقلمند تھا اس لئے وہ دیکھ رہا تھا کہ ایک لڈو کے تیار ہونے تھا میں لاکھوں آدمیوں کی محنت خرچ ہوتی ہے۔ یہ تو اس نے دنیاوی رنگ میں نصیحت کی تھی مگر جوڑوحانی بزرگ گزرے ہیں انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں کی نسبت لکھا ہے کہ انہوں نے بٹالہ کے ایک شخص غلام نبی کو دو الڈو دیئے اُس نے منہ میں ڈال لئے اور کھا گیا تھوڑی دیر کے بعد اس سے انہوں نے پوچھا تم نے ان لڈوؤں کو کیا کیا۔ اس نے کہا کھا لئے ہیں۔ یہ سنکر انہوں نے نہایت تعجب انگیز لہجہ میں پوچھا کہ ہیں کھا لئے ہیں۔ اس نے کہا ہاں کھا لئے ہیں۔ اسی طرح وہ بار بار اس سے پوچھتے رہے اور تعجب کرتے رہے کہ اتنی جلدی تم نے کھا لئے ۔ اس کو خیال ہوا کہ انہیں دیکھنا چاہئیے کہ یہ کس طرح کھاتے ہیں۔ ایک دن کوئی شخص ان کے پاس کچھ لڈولا یا ان میں سے آپ نے ایک لڑو اٹھا کر رومال پر رکھ لیا اور اس میں سے ایک ریزہ توڑ کر آپ نے تقریر شروع کر دی کہ میں ایک ناچیز ہستی ہوں میرے لئے خدا تعالیٰ نے یہ اتنی بڑی نعمت بھیجی ہے اس میں کیا کیا چیزیں پڑی ہیں پھر ان کو کتنے آدمیوں نے بنایا ہوگا۔ کیا مجھ ناچیز کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نعمت بھیجی ہے۔ اس طرح تقریر کرتے رہے ادھر اپنی عاجزی اور فروتنی بیان کرتے اور ادھر خدا تعالیٰ کی حمد اور تعریف کرتے اسی طرح ظہر سے کرتے کرتے ابھی پہلا ہی دانہ جو منہ میں ڈالا تھا وہی کھایا تھا کہ عصر کی اذان ہوگئی اور اسے چھوڑ کر وضو کرنے نے کے کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ کیا بات تھی؟ یہی کہ اس لڈو میں انہیں خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشان نظر آتے تھے یوں کھانے والا تو چار پانچ ، دس میں لڈو بھی جھٹ پٹ کھا جاتا ہے مگر مظہر جانِ جاناں کے لئے ایک ہی لڈو اتنا بوجھل ہو گیا کہ اس کے کھانے سے ان کی کمر ٹوٹی جاتی تھی۔ تو عقل ہی ایک چھوٹی سی چیز کو بڑا بنا دیتی ہے اور نادانی نظر آنے والی بڑی چیز کو چھوٹا ظاہر کر دیتی ہے اسی طرح عقل ایک بڑی نظر آنے والی چیز کو چھوٹا دکھا دیتی ہے اور نادانی ایک معمولی چیز کو بڑا دکھاتی ہے۔ تو دانا انسان چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خدا تعالیٰ کے بڑے بڑے نشان دیکھ لیتا ہے اور نادان بڑی بڑی اہم باتوں میں بھی کچھ نہیں دیکھتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام نے فرمایا ہے کہ میری صداقت کے خدا تعالیٰ نے لاکھوں نشانات دکھلائے ہیں یہ بالکل درست ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ آپ کی صداقت کے خدا تعالیٰ نے اس قدر نشانات دکھلائے ہیں کہ جن کا شمار بھی نہیں ہو سکتا مگر رکن کے لئے انہیں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص آپ کی صداقت کے نشانات دیکھنے کے لئے یہاں آئے تو یہ جس قدر بھی عمارتیں سامنے نظر آ رہی ہیں ( مسجد اقصی میں کھڑے ہو کر ) ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب آپ کے نشان ہیں۔ پھر احمد یہ بازار سے آگے کے جس قدر مکانات بنے ہیں ان کے لئے جو زمین تیار