خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 26

۲۶ 5 خطبات محمود جلد (5) فتنے اور آزمائشیں روحانی ترقی کے لئے ضروری ہیں فرموده ۱۸ فروری ۱۹۱۶ء) تشهد و تعو ذوسورہ فاتحہ اور مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا :- الَمْ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَذِبِينَ (العنکبوت ۲ تا ۴) اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے پھر مجھے آپ لوگوں کے سامنے بولنے کی توفیق دی ۔ مجھے اس وقت بھی تپ ہے اور راستہ میں چکر بھی آگیا تھا پہلے تو میرا ارادہ کچھ بولنے کا نہ تھا۔ کل میں نے ڈاکٹر صاحب سے اتنی اجازت لی تھی کہ جمعہ کی نماز میں شامل ہو جاؤں ۔ لیکن جب چلنے لگا تو خدا تعالیٰ نے اتنی ہمت دے دی کہ خطبہ بھی میں ہی پڑھا دوں ۔ انسان اور حیوان میں بہت بڑا فرق ہے۔ اور وہ بڑا فرق دنیاوی لحاظ سے تمدن کے نام سے یاد کیا ہے۔اور جاتا ہے۔ اور دینی لحاظ سے اس فرق کو مذہب کہتے ہیں تو دو طرح کا فرق ہے۔ دنیاوی لحاظ سے تو یہ ہے کہ انسان میں تمدن ہے اور حیوان میں نہیں ہے۔ اور دینی لحاظ سے یہ کہ انسان کے ساتھ ایک دین لگا ہوا ہے اور حیوان کے ساتھ نہیں ہے۔ گو حیوان کے ساتھ بھی ایک طرح کی اطاعت اور فرمانبرداری تو ہے اور ایک رنگ میں وہ عبادت بھی کرتا ہے لیکن اس کے افعال میں قدرت نہیں۔ اسے بھلائی برائی کے انتخاب کا اختیار نہیں دیا۔ بلکہ جس طریق پر اسے چلا دیا گیا ہے اس پر وہ چلتا رہے گا۔لیکن انسان کے کاموں میں قدرت اور اندازہ کا دخل ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے برا اور بھلا دونوں رستے کھلے ہوتے ہیں۔ تاکہ ان میں سے جسے چاہے اختیار کرلے۔ اور یہ بات انسان کے اختیار میں ہوتی ہے کیونکہ بھلے اور بڑے راستے کا اختیار کرنا اس کے انتخاب پر چھوڑ ا جاتا ہے اور قبل از وقت اسے بتا دیا جاتا ہے کہ بھلا راستہ کون ہے اور بُرا کون۔ سکھ کس میں ہے اور دُکھ کس میں ۔ آرام کس میں ہے اور تکلیف کس میں ۔ فائدہ کس میں ہے