خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 329

خطبات محمود جلد (5) ۳۲۹ اور اپنی محبت میں بڑھنے کی توفیق دیتا ہے۔گویا مذہب ایک اس قسم کی چیز ہے کہ جس قدر اس کو ظاہر کیا جائے اس قدر زیادہ چمکتی اور روشن ہوتی ہے۔بعض کپڑوں کے رنگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ دُھوپ میں خوشنما نہیں لگتے اس لئے دُکان داران کو چھاؤں میں مکان کے اندر رکھتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دُھوپ میں اور چمکتے ہیں ان کو ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں روشنی اچھی طرح پڑتی ہو۔یہی حال بچے مذہب کا ہے اس کو جس قدر زور کے ساتھ روشنی میں لایا جائے اور لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اُسی قدر وہ زیادہ خوشنما اور عمدہ نظر آتا ہے اور پیش کرنے والے کو بہت زیادہ روشن کر دیتا ہے۔پس ایک ایسی چیز جس کے پیش کرنے سے پیش کرنے والے کو بیش از بیش فائدہ ہو اس کے ظاہر کرنے کے لئے تو بہت زیادہ کوشش کرنا چاہیئے۔لیکن افسوس! کہ اس کے لئے بعض لوگ کمزوری دکھاتے ہیں اور اپنے مذہب کو دوسروں تک نہیں پہنچاتے۔میرے نزدیک اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ مذہب کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے مثلاً گورنمنٹ اعلان کر دے کہ جو شخص کسی شخص کو جتنی زمین دلوائے گا اتنی ہی سر کار اُس شخص کو اور زمین بھی دے گی تو اس اعلان کے ہوتے ہی بار میں رہنے والے لوگ دوسرے لوگوں کو ادھر کھینچ کر لے جائیں گے کیونکہ اس میں خود دان کا نفع ہے۔ہم سے تو خدا تعالیٰ کا اس طرح کا وعدہ ہے۔اور مذہب میں یہ شرط رکھی ہے کہ جو شخص کسی کو ہدایت کرے گا اس کو بھی اس کے بدلہ میں انعام ملے گا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اپنے مذہب کا اظہار تو ایک بڑی اعلیٰ درجہ کی چیز تھا کیونکہ جتنا لوگوں کو فائدہ پہنچتا اتنا ہی ہم کو بھی پہنچ جاتا لیکن افسوس کہ بعض لوگ اس کی حقیقت کو سمجھتے نہیں۔عجیب بات ہے کہ بہت سی ایسی باتوں کو ظاہر کرتے ہیں جن سے کوئی فائدہ متصوّر نہیں ہوتا اور اُن چیزوں چھپاتے ہیں جن سے فائدہ ہوا کرتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ان کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے مثلاً ایک شخص کے پاس ایک ہیرا ہو اور وہ اس کی جیب میں پڑا ہو اور اس کو معلوم نہ ہو کہ یہ ہیرا ہے تو وہ وہیں پڑا رہے گالیکن جب اس کو معلوم ہو گا تو فوراً اُس کو کسی انگوٹھی میں جڑوا کر اپنے ہاتھ میں پہن لے گا۔ہمیں مذہب سے جو حصہ خدا نے دیا ہے وہ ہمارے دعوی کے مطابق نہ صرف وافر بلکہ صرف ہمیں کو دیا گیا ہے۔میں نے بارہا اس امر پر زور دیا ہے اور ہمیشہ زور دیتا رہوں گا۔اس کی کئی وجہیں ہیں اوّل تو جب تک کوئی اس کو سمجھے نہیں اس وقت تک اس کا سمجھانا ہمارا فرض ہے۔دوسرے بعض لوگ سمجھ کر پھر بھول جاتے ہیں۔اس لئے بھی زور دیا جاتا ہے کہ وہ لوگ بھو لیں نہیں۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک خدا کی نعمت ہے اس کو چھپانا نہیں بلکہ بڑے زور کے ساتھ ظاہر کرنا چاہیئے۔ہر مذاق کا آدمی اپنے رنگ میں اپنے اپنے مذاق کے لوگوں کو تبلیغ کر سکتا ہے۔جب ایک