خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 322

خطبات محمود جلد (5) ۳۲۲ ہے وہ سال ہمیشہ ۱۳۳۵ ہجری ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر جو خدا کے فضل ہوتے ہیں وہ کسی خاص سال سے تعلق نہیں رکھتے۔حضرت مسیح موعود پر جو فضل ہوئے کیا ہ۳۳ ہجری میں آپ سے زیادہ کسی پر فضل ہو جائے گا۔یا ۳۳۵لاھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے زیادہ کوئی بات حاصل ہو جائے گی۔ان کے مقابلہ میں تو ۱۳۳۵ھ عشر عشیر بھی نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود کے لئے ۳۳۵لاھ کی کوئی شرط نہ تھی۔آپ کے لئے ہر دن اور ہر گھڑی ۳۳۵اتھ ہی تھا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔میں تو سمجھتا ہوں کہ ۳۳۵لاھ تک جود پر ہوئی ہے یہ ہماری کوتاہیوں اور سستیوں ہی کی وجہ سے ہوئی ہے ورنہ اگر ہم خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کرتے تو ہمارے لئے حضرت مسیح موعود کی زندگی سے ہی ۱۳۳۵ھ شروع ہو جاتا جیسا کہ صحابہ کرام کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔حضرت ابوبکر کے وقت ایک ابتلاء آیا تھا لیکن چھ مہینے کے اندر اندر دُور ہو گیا اور زیادہ سے زیادہ ایک سال تک اس کا اثر رہا اور ان کے زمانہ میں ایک قلیل حصہ اس کا رہا۔تو ۱۳۳۵ ھ کوئی خصوصیت نہیں رکھتا۔جس بات کی اس سال کی وجہ سے خوشی ہے وہ ہر روز اور ہر سال میتر ہو سکتی ہے مگر ضرورت ہے اس بات کی کہ خدا تعالیٰ کے انعامات کی پوری پوری شکر گذاری کا مادہ اپنے اندر پیدا کیا جائے۔کس قدر احسانات ہیں جو ہم پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہوئے ہیں۔کیسی جہالت اور تاریکی میں ہم پڑے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اُلفت کو جانتے تک نہ تھے۔شریعت پر عمل کرنا دو بھر ہو گیا تھا مگر جس طرح اندھیرے اور ظلمت میں سورج نکل آتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو ظاہر کر دیا اور آپ کی وجہ سے تمام اندھیرا دُور ہو گیا۔دُنیا کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی سمجھا جاتا تھا۔ہلاکت کو کامیابی اور کا میابی کو ہلاکت خیال کیا جاتا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر برائی کو برائی اور نیکی کو نیکی دکھا دیا۔پھر آپ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی حقیقت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قرآن کریم کی قدر ہمیں معلوم ہوئی۔پھر آپ کی وجہ سے اسلام کی شان و شوکت بڑے زور شور سے ظاہر ہوئی اور ہمیں خدا تعالیٰ کا قرب اور محبت حاصل ہوگئی۔پھر دُنیاوی رنگ میں بھی ہماری جماعت کے لوگوں پر بڑے بڑے فضل ہوئے۔ان کے مصائب دُور ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے انہیں عرب تیں دیں۔ان کے دشمن ہلاک اور رُسوا ہوئے۔اور اب اگر چہ دوسرے لوگ احمدیوں کو کافر ہی کہتے ہیں لیکن یہ بھی مانتے ہیں اگر کوئی گروہ قابل عزت ہے تو یہی ہے۔یہاں جھنگ کے ضلع سے ایک شخص آیا کرتا ہے اس کے دوسرے رشتہ دار چور اور ڈاکو ہیں اور اُسے کہتے رہتے ہیں کہ تو احمدیت کو چھوڑ دے۔اس بات کے لئے اُسے بہت تکلیف بھی دیتے ہیں اور وہ اُن سے بھاگ کر یہاں آجاتا ہے۔لیکن چونکہ گھر کا کام کاج بہت اچھی طرح کرتا ہے اس لئے اُسے پھر بلا لیتے ہیں۔اس کے ساتھ