خطبات محمود (جلد 5) — Page 317
خطبات محمود جلد (5) ۳۱۷ ہو گیا ہے۔تو یا تو انہیں اس پیشگوئی کو بناوٹی اور جعلی قرار دینا پڑے گا یا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسیح موعود آ گیا ہے۔اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوا اور کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اس لئے آپ کو انہیں مسیح موعود مانا پڑے گا۔یہ توہمارے لئے بنی بنائی فتح ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے لکھی جا چکی ہے۔باقی اور بہت سی امیدیں کہ یہ سن ہمارے لئے فتوحات کا ابتدائی سال ہے۔چنانچہ ہماری جماعت کے لوگ اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور میرے پاس مبارکباد کے خطوط بھی آئے ہیں لیکن میں ایسے سب لوگوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ۳۳۵ ھ میں بلحاظ دنوں، ہفتوں، اور مہینوں یا چاند کی رفتار کے ۳۳۶اه یا ۳۳۴اہ سے کوئی زیادتی نہیں ہے۔یہ بھی اس قسم کائن ہے جیسے کہ پہلے گزر چکے ہیں۔اس میں کونسے لعل لگے ہوئے ہیں کہ اسے دوسروں سے بڑا سمجھیں۔اس میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔وہ جماعت جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا وارث ثابت کر دے اس کے لئے ۳۳۲ ھ اور ۳۳ھ بھی ۳۳۵ ھ ہی بن جاتے ہیں اور جو جماعت اپنے اعمال اور افعال سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے غضب اور سزا کا مستحق بنالیتی ہے اس کے لئے ۱۳۳۵ھ یا د ۳۳ ھ یا ۱۳۴۰ ھ سب برابر ہو جاتے ہیں۔ہر ایک فتح کے ساتھ شکست بھی ہوتی ہے۔کیا آج تک ایسی بھی کوئی فتح ہوئی ہے کہ جس کے ساتھ شکست نہ ہو۔ہرگز نہیں۔آج تک تو یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ اگر ایک گروہ کو فتح حاصل ہوئی ہے تو اسی فتح کے ساتھ دوسرے گروہ کو شکست بھی ہوئی ہے۔پس اگر یہی سال ایک جماعت کے لئے مبارک ہے تو کیا اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی نہیں پیدا ہوتا کہ یہی ۳۳۵ ھ کسی اور کے لئے منحوس اور نامبارک بھی ہے۔تو اس سال کی یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی کہ تمام کے لئے مبارک ہی ہو۔ضرور اگر ایک گروہ کے لئے مبارک ہے تو دوسرے کے لئے نامبارک بھی ہے۔باقی رہا یہ کہ مبارک کس کے لئے ہے اور نامبارک رکس کے لئے؟ اس میں تو کچھ شک ہی نہیں کہ جو میدان ایک قوم کے لئے فتح اور کامیابی کا باعث بنتا ہے وہی میدان دوسری قوم کے لئے شکست اور نا کامی کا بھی موجب بنتا ہے۔اور جس طرح وہ میدان یہ یاد دلاتا ہے کہ فلاں قوم کو اس میں فتح نصیب ہوئی تھی اسی طرح وہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اسی موقعہ پر کسی کو شکست بھی ہوئی تھی۔پس جہاں عظیم الشان فتح ہوتی ہے وہاں بہت بڑی شکست بھی ہوتی ہے۔اس لئے ڈرنا چاہئیے کہ فتح ہمارے دشمنوں کو نہ ہو اور شکست ہمارے حصہ میں نہ آئے۔جتنی بڑی کوئی فتح ہوتی ہے اس کے ساتھ اتنی ہی بڑی شکست بھی وابستہ ہوتی ہے۔پس جہاں بہت بڑی فتح سے خوشی ہونی چاہئیے وہاں اس بات سے ڈرنا بھی بہت چاہئیے کہ ہمارے حصہ میں شکست نہ آئے۔