خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 311

خطبات محمود جلد (5) ۳۱۱ اور بے فائدہ سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ سامان سے کام نہیں لیتے وہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش کرتے ہیں۔ہاں اگر باوجود کوشش اور سعی کے کوئی سامان میٹر نہ ہو سکے تو ایسا شخص اگر باوجود ان ظاہری سامان کے نہ ہونے کے بھی دُعا کرتا ہے اور قبولیت دعا کے شرائط کو پورے طور پر بہم پہنچاتا ہے تو اسکی دعا قبول ہو جاتی ہے۔ضرورت کے مطابق رکسی قافلے کی گری پڑی چیز ہی اس کو مل جائے گی جس کے ذریعہ وہ اپنی حاجت کو رفع کرلے گا یا خدا تعالیٰ اس کی حاجت کو ہی دُور کر دے گا۔مگر یہ اُسی وقت ہوتا ہے جبکہ اپنی طرف سے انسان کوشش اور محنت کا حق ادا کر چکے۔احادیث میں آیا ہے کہ کئی بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا موقع پیش آیا کہ سفر میں پانی کم ہو گیا آپ نے تھوڑے سے پانی میں ہاتھ ڈالا اور وہ بڑھ گیا۔۔مگر یہ بھی ثابت ہے کہ اس خارق عادت امر دکھلانے سے پہلے آپ نے چاروں طرف آدمی دوڑائے کہ پانی کی تلاش کرو لیکن جب پانی کا کوئی سراغ نہ ملا تو پھر آپ نے ایسے ایسے معجزے دکھلائے کسی ایسی جگہ آپ نے کوئی معجزہ نہیں دکھلایا کہ جہاں سے پانچ سات میل تک پانی مل سکتا ہو اور آپ نے کہا ہو کہ وہاں سے پانی لانے کے لئے تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے لو ہم خود اسی جگہ پانی بڑھا دیتے ہیں بلکہ اُس وقت آپ نے ایسا کیا جبکہ پانی کے ملنے سے بالکل نااُمیدی ہوئی۔تو ایک شخص نے اگر پورا زادراہ لے کر ایک سینکڑوں میل کے جنگل کا سفر اختیار کیا ہو لیکن راستے میں اس کے سامان پر کوئی آفت آپڑی ہو اور وہ تباہ ہو گیا ہو اس لئے وہ نہ آگے کا رہا نہ پیچھے کا۔ایسے وقت میں بغیر سامان مہیا کئے بھی وہ صرف دُعا پر بھروسہ کر سکتا ہے کیونکہ یہ ایسا موقعہ ہے کہ اب سامان کا مہیا کرنا اس کی طاقت سے باہر ہے۔مگر جب کوئی شخص بغیر زادراہ کے اتنا لمبا سفر اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ چلو ساتھ بوجھ کیا اُٹھانا ہے دُعا کر لیا کریں گے تو یہ درست نہیں ایسا کرنے والا تو خدا تعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو اس کی پرواہ کیا ہے۔ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہئیے کہ دعاؤں کے ساتھ سامان کی بھی بڑی ضرورت ہے جو لوگ صرف دُعا پر ہی بھروسہ کر کے سامان کو لغو قرار دیتے ہیں وہ بجائے انعام الہی سے حصہ لینے کے غضب الہی کے مستحق ہو جاتے ہیں کہ وہ اس طریق عمل سے خدا تعالیٰ کا امتحان لیتے ہیں۔امتحان ہمیشہ لائق لیا کرتا ہے۔کیا کبھی کسی وزیر نے بھی بادشاہ کا امتحان لیا۔نہیں بلکہ بادشاہ اور اس کی طرف سے لائق اشخاص کسی کی عقل فہم اور لیاقت کو دیکھتے ہیں اور اس طرح کوئی وزارت کا عہدہ پاتا ہے۔پھر کسی طالب علم کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنے اُستاد کا امتحان لے ہاں اُستاد کا حق ہے کہ اپنے صحیح مسلم کتاب الفضائل باب تفضیل نبینا صلی اللہ علیہ وسلم۔