خطبات محمود (جلد 5) — Page 292
خطبات محمود جلد (5) ۲۹۲ پھریں۔ہمیں تو لوگوں کی کچھ پرواہ نہیں صرف خدا ہی کی پرواہ ہے۔جب اس نے حضرت مسیح موعود کا نام نبی رکھا ہے اور جو آپ کو نبی نہیں کہتا اُسے آپ کا دشمن قرار دیا ہے تو ہم کیوں آپ کو نبی نہ کہ کر آپ کے دشمن بنیں۔ہم تو خدا کے فضل سے آپ کے دوستوں میں ہیں جس کا جی چاہتا ہے کہ دشمن بنے وہ آپ کو نبی نہ کہے۔ہم بڑی دلیری اور جرات سے کہتے ہیں کیونکہ نہ کہنا عدو کا کام ہے۔ہم خادم ہیں اس لئے خدمت کا حق ادا کرتے ہیں اور وہ یہی ہے کہ دُنیا کے سامنے آپ کا سچا دعویٰ پیش کریں۔کسی کا یہ کہنا کہ بائیل میں مسیح کو ابن اللہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کہا گیا ہے لے تو کیا واقعہ میں مسیح کو خدا کا بیٹا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا مان لینا چاہیئے۔ہم کہتے ہیں یہ ایسی کتاب میں لکھا ہوا ہے جو محترف و مبدل ہے۔قرآن کریم نے کسی جگہ ایسا نہیں کہا تو پھر ابن اللہ تو ایک محاورہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی الہام ہے کہ انت منی بمنزلة ولدی اس کا یہی مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود کا خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی درجہ ہے جو اگر کوئی اس کا ولد ہوتا تو اس کا ہوتا۔یہ آپ کی منزلت بتانے کے لئے اسی طرح کہا گیا ہے جس طرح قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کو اپنا فعل قرار دے کر آپ کا درجہ بتایا ہے نہ کہ خدا کا قرار دیا ہے۔فرمایا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ سجن لوگوں نے تیری بیعت کی دراصل انہوں نے اللہ کی بیعت کی ہے اور اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔اس آیت سے کوئی نادان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخدا نہیں کہہ سکتا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی وہ انہیں انعامات کے مستحق ہو گئے جن کے خدا سے بیعت کرنے پر مستحق ہو سکتے تھے۔پھر ایک اور آیت ہے جو یہ ہے کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رھی کہ جب تو نے پھینکا تو تُو نے نہیں پھینکا ( یہاں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ وجود قرار دیا ہے اور تو کا لفظ اس کو واضح کر رہا ہے ) بلکہ خدا نے مٹھی پھینکی تھی۔اس میں بھی خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نہیں قرارد یا بلکہ ایک غیر کہہ کر پھر اس بات کو بتایا ہے کہ خدا کے پھینکنے پر جو نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا وہی تیرے پھینکنے سے ہوا۔پس یہ غلط ہے کہ آنحضرت کو قرآن کریم میں کہیں خدا کہا گیا ہے۔باقی رہی بائیبل وہ محفوظ ہی کہاں ہے کہ اس کی دلیل مانی جائے۔پھر اگر ہے تو مسیح کو نبی کہنے اور مسیح کو ابن اللہ کہنے میں بہت فرق ہے کیونکہ نبی کی لغت میں وہی تعریف ہے جو ہم کہتے ہیں۔لیکن ابن اللہ کے متعلق لغت کچھ نہیں بتا سکتی۔اب ہم جو کچھ کہتے ہیں اس سے اگر کسی کو دھو کہ لگتا ہے تو وہ معذور نہیں ہے کیونکہ جو ہم کہتے ہیں وہی لغت کہتی ہے۔ہاں اگر لغت ہمارے خلاف ہوتی تو وہ معذور ہوتے۔مثلاً کوئی کہے کہ اینٹ کے معنی گھوڑا ہے تو ہم اُسے کہیں گے کہ ایسا نہیں کہنا چاہئیے اس سے ه استثناء باب ۳۳ سے تذکره ص ۵۲۶ ۳ فتح: ۱۱ الانفال: ۱۸