خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 282

خطبات محمود جلد (5) ۲۸۲ رکسی چیز کو محبوب رکھتے ہوں اور اس کی بجائے کوئی اور بتا دیا جائے اور کہا جائے کہ یہ وہی ہے تو اس کی ایسی تعریف کرنے لگ جائیں گے جیسی کہ اپنی محبوب چیز کی کرتے ہوں گے اور جب بتایا جائے کہ یہ تو وہ نہ تھی تو شرمندہ ہو جائیں گے۔اس قسم کا ابھی ایک واقعہ گذرا ہے۔ولایت میں ایک مشہور مصنف ہے ایک اخبار ہمیشہ اس کے خلاف لکھا کرتا تھا اور کہتا تھا اس کے مضامین کوئی اعلیٰ پایہ کے نہیں ہوتے بلکہ ادنی اور معمولی درجہ کے ہوتے ہیں۔اس مصنف کے کسی دوست نے اس کا ایک مضمون لیکر ایک ایسے مشہور مصنف کے نام سے اس اخبار میں چھپنے کے لئے بھیج دیا جس کو وہ پسند کرتا تھا۔اس اخبار نے اس مضمون کو نمایاں جگہ پر موٹے الفاظ میں شائع کیا اور اپنی طرف سے بیبیوں خوبیاں اس مضمون اور مضمون نگار کی گنا دیں۔شائع ہونے کے بعد اسے لکھا گیا کہ یہ تو فلاں آدمی کا مضمون تھا۔اس پر اس کی تعریف بند ہوگئی۔اسی طرح انوری ایک مشہور فارسی کا شاعر گذرا ہے وہ لکھتا ہے کہ میں اپنے استاد کے پاس شعر بنا کر دکھانے کے لئے لے جاتا تو وہ دیکھ کر کہ دیتا کہ کچھ اچھے نہیں ہیں۔استاد ہر روز اسی طرح کہتا۔میں بڑی احتیاط اور کوشش سے شعر لکھتا لیکن وہ ناپسند کر دیتا۔ایک دن مجھے اپنے گھر سے کچھ پرانے کاغذات ملے ان پر میں نے نہایت مدھم سی۔سیاہی کے ساتھ اپنے شعر لکھے اور استاد کے پاس لے گیا کہ یہ کاغذات مجھے پرانی کتابوں میں سے ملے ہیں ان پر لکھے ہوئے شعروں کو آپ پڑھئے۔انوری لکھتا ہے استاد ان شعروں کو پڑھے اور لوٹتا جائے اور کہے کہ ایسا کامل استاد میں نے کبھی نہیں دیکھا یہ شعر کسی بڑے ہی اعلیٰ اور کامل استاد کے کہے ہوئے ہیں۔خیر اس کی وجہ تو اس نے اور بتائی ہے مگر ہم یہ دیکھتے ہیں بہت سی ایسی چیزیں جن کو انسان محبوب سمجھتا ہے بلا سوچے سمجھے ان کی تعریف شروع کر دیتا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں جن کو نا پسند کرتا ہے ہلاسوچے سمجھے ان کی مذمت کرنے لگ جاتا ہے۔اس وقت دلائل اور واقعات اس کی نظر سے پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔آج ہی میں نے کسی کا خط پڑھا ہے مجھے تو حیرت ہی ہوئی ہے کہ کس طرح کسی چیز کی محبت یا بغض ہوتو انسان کی عقل اور سمجھ پر پردہ پڑ جاتا ہے۔الفضل میں کوئی مضمون شائع ہوا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی یا رسول مانتے اور کہتے ہیں۔بلکہ یہ بھی کہہ دو کہ کامل نبی حقیقی نبی۔مستقل نبی۔مگر ایسا کہنے سے جو ہماری مراد ہے وہ بھی سُن لو۔“ ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت مرزا صاحب کو ہرگز ہرگز ایسا نبی نہیں مانتے۔نہ وہ کوئی شریعت لائے نہ انہوں نے احکام شریعتِ سابقہ منسوخ کئے۔نہ وہ ایسے ہیں کہ نبی سابق کی اُمت نہ کہلائیں۔نہ وہ براہ راست بغیر افاضہ کسی نبی سابق کے نبوت پانے والے