خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 247

خطبات محمود جلد (5) ۲۴۷ متعلق طریق بتا کر پوشیدہ اور سر بستہ راز کھول دیئے ہیں یہ تو بڑی محنتوں اور مشقتوں کے بعد کسی کو نصیب ہوا کرتے تھے۔کوئی بہت ہی دعائیں کرنے والا اور خدا کے حضور گریہ وزاری کرنے والا ہوتا تو اسے ان طریق سے کوئی ایک القا کیا جاتا۔لیکن آپ نے تو یونہی سب بتا دیئے ہیں اور اب ہر ایک ان سے آگاہ ہو جائے گا۔اس بات پر وہ بڑی حیرانی ظاہر کرتا ہے اور آخر لکھتا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ آپ بھی مجبور تھے۔آپ ایک جماعت کے امام جو ہوئے اس لئے اپنی جماعت کی محبت کے جوش میں آکر آب سے یہ حرکت ہوگئی ہے۔“ دیکھئے ! ادھر اس کو تو یہ صدمہ ہوا ہے کہ میں نے یہ طریق ظاہر کیوں کر دیئے ہیں۔لیکن ادھر مجھے خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایک اور نمونہ دکھایا ہے۔جب میں خطبہ پڑھ کر مسجد سے گھر گیا۔تو دل میں آیا کہ سوائے دو تین طریقوں کے جو وقت کی تنگی کی وجہ سے بیان نہیں ہو سکے۔باقی سب میں نے بیان کر دیئے ہیں اور یہ جو مجھے یاد ہیں ان کے علاوہ اور کوئی طریق نہیں ہے لیکن اسی وقت جبکہ جمعہ کا دن اور رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔میں نے دعا شروع کی۔تو خدا تعالیٰ نے کئی نئے طریق مجھے اور بتا دیئے۔میں نے سمجھا تھا کہ وہی طریق کو چھوڑ کر جن کو انسان بیان ہی نہیں کر سکتا جس قدر بھی کسی طریق ہیں۔اور جنہیں ہر ایک انسان استعمال کر سکتا ہے وہ سب میں نے اخذ کر لئے ہیں لیکن جاتے ہی خدا تعالیٰ نے چار پانچ طریق اور بتا دیئے۔گویا جب میں نے جگہ خالی کی۔تو اور آگئے۔علم کا خلا اس کا پھیلا نا ہی ہوتا ہے یہ نہیں کہ وہ نکل جائے دوسری چیزیں اس وقت خلا پیدا کرتی ہیں جبکہ وہ خود نکل جائیں لیکن علم باوجود موجود رہنے کے خرچ کرنے سے خلا پیدا کر دیتا ہے۔پس مجھے تو بجائے کسی قسم کا نقصان یا کمی ہونے کے فائدہ ہی ہؤا کہ خدا تعالیٰ نے اور طریق سکھا دیئے۔( ان طریقوں میں سے بھی دو طریق جو حضور نے درس القرآن میں فرمائے بڑھا دیئے گئے ہیں ) لیکن اس کو خواہ مخواہ افسوس کرنا پڑا۔یہ ایک غلطی ہے جو بڑی خطرناک ہے۔چھپانے والی چیز تو وہ ہوا کرتی ہے جو بُری اور خراب ہو۔اچھی چیز تو ظاہر کرنے کے لئے ہوا کرتی ہے۔پھر وہ چیز جس میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔بلکہ بڑھتی ہے پھر اس کے چھپانے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے اسلام کی تعلیم تو ایسی ہی ہے کہ جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ