خطبات محمود (جلد 5) — Page 228
خطبات محمود جلد (5) رض رض ۲۲۸ صحابہ جب خندق کھود رہے تھے تو ایک سخت پتھر سامنے آگیا۔ ہر چند اس کے اکھیڑنے کے لئے زور لگایا گیا۔ مگر وہ نہ اُکھڑا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی ۔ آپ آئے اور آکر کدال سے اس پتھر پر ضرب لگائی ۔ اس سے ایک شعلہ نکلا ۔ آپ نے کہا ۔ اللہ اکبر صحابہ نے بھی یہی کہا۔ دوسری بار پھر ضرب لگائی ۔ پھر شعلہ نکلا ۔ آپ نے کہا۔ اللہ اکبر۔ صحابہ نے بھی یہی کہا۔ تیسری بار پھر اسی طرح ہوا ۔ آپ نے کہا۔ اللہ اکبر ۔ صحابہ نے بھی یہی کہا۔ تیسری دفعہ پتھر ٹوٹ گیا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! آپ نے اللہ اکبر کیوں کہی تھی۔ آپ نے فرمایا۔ تینوں بار ضرب لگانے پر شعلہ نکلتا رہا ہے ۔ اور ہر شعلہ میں مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا ہے۔ پہلی دفعہ جو چمک ظاہر ہوئی۔ اس میں خدا تعالیٰ نے مجھے یمن کا ملک دیا۔ اور دوسری بار ملک شام اور مغرب کو اور تیسری بار مشرق کو مجھے عطا کیا۔ جب آپ نے یہ کشف بنایا تو منافقوں نے کہہ دیا کہ پاخانہ پھرنے کے لئے تو جگہ نہیں ملتی اور ملکوں کے فتح کرنے کی خوا ہیں آتی ہیں تو ایسی نازک حالت ہوگئی تھی کہ منافقوں کو بھی ہنسی اور مخول کرنے کی جرات پیدا ہو گئی تھی ۔ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ سچے اور پکے مسلمانوں نے کیا نظارہ دکھایا کہ وَلَمَّارَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَا دَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا - ے جب کفار کا وہ بڑا عظیم الشان لشکر کہ جو تمام عرب کے چنے ہوئے انسانوں پر مشتمل تھا۔ اس کی خبر ان کو معلوم ہوئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خندق کھودنی اور کھدوانی پڑی اور مسلمانوں کی ان کے مقابلہ میں بہت قلیل تعداد تھی تو اس وقت صحابہؓ نے کہا کہ یہ لشکر تو وہی ہے جس کے متعلق خدا اور اس کے رسول نے پہلے سے ہی وعدہ دیا ہوا ہے کہ ایک بڑا بھاری لشکر آئے گا اور ذلیل وخوار ہو کر واپس چلا جائے گا۔ دیکھو ! بجائے اس کے کہ صحابہؓ کے دل گھبراتے یا نہ گھبراتے دشمن کا مقابلہ کرتے لیکن انہوں نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ ایمانی جرات امسند احمد بن حنبل و نسائی بحوالہ فتح الباری جلد ۷ ص ۳۰۴ ص ۳۰۵۔ ۲ سوره احزاب ۲۳۔