خطبات محمود (جلد 5) — Page 227
خطبات محمود جلد (5) ۲۲۷ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ نہ صرف مقابلہ کرتا ہے بلکہ اس سے بالکل نڈر ہو جا تا اور ذرہ پرواہ نہیں کرتا کہ کیا نتیجہ نکلے گا۔یہ اعلیٰ درجہ کی جرات اور بہادری کہلاتی ہے۔اور ایسے ہی لوگ جرات اور بہادری کا اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہیں۔بزدل تو دشمن کے مقابلہ سے بھاگ جاتے ہیں اور دلیر مقابلہ کرتے ہیں اور جو بہت زیادہ دلیر اور بہادر ہوتے ہیں اور جن میں خاص ایمانی جرات ہوتی ہے وہ نہ صرف مقابلہ کرتے ہیں بلکہ دشمن کو حقیر سمجھتے ہیں اور جب اس پر غلبہ پالیتے ہیں تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے دل پر جو ایک بوجھ سا پڑا ہوا تھا وہ اُتر گیا ہے۔گو یا مقابلہ کرنا تو الگ رہا۔وہ جرات میں ایسے بڑھ جاتے ہیں کہ بڑے سے بڑا دشمن بھی ان کی نظر میں کچھ وقعت اور حقیقت نہیں رکھتا۔صحابہ کرام کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اسی قسم کے تھے۔جنگ احزاب کے موقعہ پر دشمنانِ اسلام بہت زیادہ تعداد میں جمع ہو کر حملہ آور ہوئے تھے۔یعنی ان کا لشکر دس ہزار جوانوں پر مشتمل تھا۔لے اتنا بڑا لشکر عرب میں اس قسم کی مقامی جنگوں میں پہلے بھی جمع نہیں ہوا تھا۔اور نہ ہی ایسے چیدہ چیدہ لوگ کبھی اکٹھے ہوئے تھے۔لیکن یہ لشکر خاص طور پر تیار کیا گیا تھا۔گو یا ملک عرب نے اپنے تمام بہادر اُگل کر انہیں کہہ دیا تھا جاؤ جا کر اسلام کو ( نعوذ باللہ ) بیخ و بن سے اکھیڑ کر پھینک دو۔تمام اقوام اور قبائل کے سردار اپنا اپنا لشکر لے کر آ گئے تھے۔اور یہود جو مدینہ میں رہنے والے تھے ان کے ساتھ انہوں نے یہ منصوبہ باندھ رکھا تھا کہ باہر سے ہم حملہ آور ہوں گے اور اندر سے تم مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا شروع کر دینا۔ہے اس خطر ناک حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم فرمایا۔مسلمانوں کی تعداد منافقوں سمیت تین ہزار تھی۔اور اگر منافق نکال دیئے جائیں تو اور بھی کم ہو جاتی ہے لیکن کفار دس ہزار تھے اور چنے ہوئے تھے اور یہ ایسا خطرناک موقعہ تھا کہ وہ منافق جن کی زبانیں مسلمانوں کے رعب کی وجہ سے بند تھیں اور جنہیں جرات نہیں ہو سکتی تھی کہ مسلمانوں کے سامنے ایک حرف بھی نکال سکیں وہ بھی تمسخر اور استہزاء کرنے لگ گئے حتی کہ ے ابن ہشام و طبقات ابن سعد غزوہ خندق کے سیرت ابن ہشام حالات غزوہ خندق۔