خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 208

خطبات محمود جلد (5) ۲۰۸ اسی طرح ہم پر خدا تعالیٰ کے دنیاوی رنگ میں بھی بڑے فضل ہوئے ہیں۔ہم سے پہلی قوموں نے بڑی بڑی تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھائی ہیں دیکھو حضرت مسیح جس وقت آئے تو گو انہوں نے تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے مقابلہ میں اٹھائی گئی۔مگر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔مگر تم اپنے مسیح کو دیکھو۔آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی سلطنت میں پیدا کیا کہ آپ کا کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی بال بیکا نہ کر سکا۔آپ اسی سلطنت میں بیٹھ کر تبلیغ کرتے رہے اور تبلیغ بھی نہ صرف اور وں کو بلکہ اسی سلطنت اور شہنشاہ کو۔پہلے زمانوں میں کیا مجال تھی کہ کوئی بادشاہ کو تبلیغ تو کر سکے۔یہ بہت بڑی گستاخی اور بے ادبی سمجھی جاتی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی طرف بلا یا اور کہا کہ اگر اسے قبول کر لوگی تو آپ کا بھلا ہوگا۔یہ سنکر بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا جاتا۔اس چٹھی کے متعلق اس طرح شکریہ ادا کیا گیا کہ ہم کو آپ کی چٹھی مل گئی جسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل ہیں۔ہر ایک مومن کو چاہئیے کہ ان کی قدر کرے کیونکہ جو شخص ابتداء میں الحمد کہتا ہے اس کا انجام بھی الحمد پر ہی ہوتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاخِرُ دَعُوهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (یونس : ۱۱) کہ مومن جس طرح شروع میں حمد کرتے ہیں اسی طرح انجام کا ر بھی ان کے منہ سے یہی نکلتا ہے کہ الحمد للہ رب العالمین۔بہت لوگ ہوتے ہیں جواپنی پہلی عمر میں خدا تعالیٰ کا شکر اور حمد کرتے ہیں۔لیکن جب بوڑھے ہوتے ہیں تو ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک مومن جس طرح خدا کی حمد کہتے کہتے بالغ ہوتا ہے اسی طرح جانکنی کے وقت بھی اسکے منہ سے یہی نکلتی ہے وہ کبھی مصائب اور آلام میں اس طرح گرفتار نہیں کیا جاتا کہ اس کے منہ سے حمد نہ نکلے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعام ہوتے ہیں۔ان کی وہ قدر کرتا ہے پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے انعام حاصل کرنا چا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان پر حمد الہی جاری رکھے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ہمیں فلاں تکلیف ہے فلاں مصیبت ہے ان کو دیئے ہوئے انعام بھی خدا تعالیٰ واپس لے لیتا ہے۔غالب اُردو کا ایک شاعر گزرا ہے۔تھا تو وہ شرابی۔مگر