خطبات محمود (جلد 5) — Page 208
خطبات محمود جلد (5) ۲۰۸ اسی طرح ہم پر خدا تعالیٰ کے دنیاوی رنگ میں بھی بڑے فضل ہوئے ہیں ۔ ہم سے پہلی قوموں نے بڑی بڑی تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھائی ہیں دیکھو حضرت مسیح جس وقت آئے تو گو انہوں نے تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے مقابلہ میں اٹھائی گئی۔ مگر یہودیوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھادیا۔ مگر تم اپنے مسیح کو دیکھو۔ آپ کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی سلطنت میں پیدا کیا کہ آپ کا کوئی بڑے سے بڑا مخالف بھی بال بیکا نہ کر سکا۔ آپ اسی سلطنت میں بیٹھ کر تبلیغ کرتے رہے اور تبلیغ بھی نہ صرف اوروں کو بلکہ اسی سلطنت اور شہنشاہ کو۔ پہلے زمانوں میں کیا مجال تھی کہ کوئی بادشاہ کو تبلیغ تو کر سکے۔ یہ بہت بڑی گستاخی اور بے ادبی سمجھی جاتی تھی۔ لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی طرف بلایا اور کہا کہ اگر اسے قبول کر لوگی تو آپ کا بھلا ہو گا ۔ یہ سنکر بجائے اس کے کہ ان کی طرف سے کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا جاتا۔ اس چٹھی کے متعلق اس طرح شکریہ ادا کیا گیا کہ ہم کو آپ کی چٹھی مل گئی جسے پڑھ کر خوشی ہوئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے احسان اور فضل ہیں۔ ہر ایک مومن کو چاہئیے کہ ان کی قدر کرے کیونکہ جو شخص ابتداء میں الحمد کہتا ہے اس کا انجام بھی الحمد پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَاخِرُ دَعُوهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين (یونس : ۱۱ ) کہ مومن جس طرح شروع میں حمد کرتے ہیں اسی طرح انجام کا ربھی ان کے منہ سے یہی نکلتا ہے کہ الحمد لله رب العالمین ۔ بہت لوگ ہوتے ہیں جو اپنی پہلی عمر میں خدا تعالیٰ کا شکر اور حمد کرتے ہیں۔ لیکن جب بوڑھے ہوتے ہیں تو ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک مومن جس طرح خدا کی حمد کہتے کہتے بالغ ہوتا ہے اسی طرح جانکنی کے وقت بھی اسکے منہ سے یہی نکلتی ہے وہ کبھی مصائب اور آلام میں اس طرح گرفتار نہیں کیا جاتا کہ اس کے منہ سے حمد نہ نکلے کیونکہ اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعام ہوتے ہیں ۔ ان کی وہ قدر کرتا ہے پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے انعام حاصل کرنا چاہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان پر حمد البہی جاری رکھے ۔ وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ ہمیں فلاں تکلیف ہے فلاں مصیبت ہے ان کو دیئے ہوئے انعام بھی خدا تعالیٰ واپس لے لیتا ہے۔ غالب اُردو کا ایک شاعر گزرا ہے۔ تھا تو وہ شرابی ۔ مگر