خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 207

خطبات محمود جلد (5) ۲۰۷ کو خضر کشف میں دکھائی دیا تھا۔جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ خضر ملائکہ کے رنگ میں تھا۔اسی طرح عبد القادر کو بھی کشف میں نظر آیا۔مگر انہوں نے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں اس لئے تیرا اثر مجھ پر نہیں ہوسکتا۔یہ بھی ایک رنگ ہوتا ہے۔لوگوں نے اپنی نادانی سے خضر کچھ اور سمجھا ہوا ہے۔مگر انہوں نے قرآن کریم کی آیات پر غور نہیں کیا اور نہ اس واقعہ کی حکمت اور اصلیت کو سمجھا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں اور کسی کا درجہ نہیں ہے۔بلکہ باقی سب انبیاء کا آپ سے استاد شاگرد جیسا تعلق ہے اسی لئے آپ نے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کے لئے فرمایا کہ اگر وہ بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے۔اتباع اسی وقت کی جاتی ہے جبکہ بہت بڑا فرق ہو۔تو خدا نے ہمیں ایسی شان کا رسول دیا پھر کون ہے جس کے منہ سے بے اختیار الحمد للہ رب العالمین نہ نکلے۔پھر قرآن کریم ایسی مکمل کتاب دی کہ جس کا کوئی لفظ کوئی حرکت کوئی نقطہ بے موقع نہیں ہے بلکہ ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرکت میں ایسی حکمت اور معرفت بھری ہوئی ہے کہ انسان اگر غور کرے تو ساری عمر اسی میں مست رہے اور کوئی چیز اس کی توجہ کو دوسری طرف نہ کھینچ سکے۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا شارع نبی اور قرآن کریم ایسی کامل کتاب ہمیں دی گئی۔پھر خدا تعالیٰ نے ہم پر یہ کتنا فضل کیا کہ اس تاریکی اور ظلمت کے زمانہ میں جس میں ایسے نبی اور ایسی کتاب کو لوگ چھوڑ بیٹھے تھے۔مسیح موعود علیہ السلام جیسا ہادی اور راہ نما بھیج دیا۔جس کی نسبت ہر زمانہ میں ہزار ہاولی ترستے چلے گئے۔بلکہ جس کے زمانہ کو دیکھنے کی بعض انبیاء نے بھی خواہش کی۔کیونکہ آپ کا زمانہ خاص فتوحات کا زمانہ تھا۔اللہ تعالیٰ تو چونکہ سب کا خدا ہے۔اس لئے میں نے اس کا نام نہیں لیا لیکن اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جس طرح جلوہ فرمایا ہے اس طرح پہلے کسی نبی کے ذریعہ نہیں فرمایا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایسا خدا ملا۔جیسا کسی کو نہیں ملا۔یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو ہم پر ہوئے ہیں اسی لئے قرآن کریم کو الحمد للہ رب العالمین سے شروع کیا گیا ہے۔