خطبات محمود (جلد 5) — Page 10
خطبات محمود جلد (5) 1۔چنانچہ پہلا سوال کرنے والے نے ہی ایک یہ بھی کیا ہے کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے ساتھ سلوک کرنے میں فرق کیوں رکھا گیا ہے۔برہمو جو کسی کتاب کو نہیں مانتے وہ تو اہل کتاب نہیں ہیں۔حالانکہ وہ شرک نہیں کرتے اور عیسائی جو اہل کتاب ہیں وہ اتنا بڑا شرک کرتے ہیں کہ جس کی نسبت خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ قریب ہے کہ ان کے اس شرک کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑے۔لیکن باوجود اس کے وہ تو اہل کتاب ہیں اور برہمو کے مقابلہ میں ان کے ساتھ معاملات میں بڑا فرق رکھا گیا ہے۔میرے نزدیک اس فرق میں بہت بڑی حکمتیں ہیں جن کے سمجھنے کے لئے پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ سوائے اس مذہب کے جو اپنے وقت کے لوگوں کے لئے خدا کی طرف ہدایت کے لئے مقرر ہوتا ہے باقی سب مذاہب جن کی اصل ہی کوئی نہ ہو یا ابتداء میں تو درست ہوں لیکن بعد میں خراب ہو گئے ہوں شرک سے کبھی خالی نہیں ہوتے۔کیونکہ کوئی مذہب اسی وقت بگڑتا ہے۔جب اس کے پیروان صفات الہیہ کے سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں اور جب صفات الہیہ کے سمجھنے میں نقص پید اہو گا تو ساتھ ہی شرک پیدا ہوگا۔پس کوئی جھوٹا مذہب شرک کی آمیزش سے خالی نہیں ہوسکتا۔اور جو مذہب شرک کی آمیزش سے بکلی پاک ہے وہ ضرور سچا ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ بعض جھوٹے مذاہب میں شرک ظاہر طور پر ہو اور بعض میں مخفی طور پر۔اب جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ شرک تمام جھوٹے مذاہب میں ہوتا ہے۔اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ مسیحی اور یہودی جن کو نام لے کر اہل کتاب کہا ہے وہ مشرک ہیں جیسا کہ فرمایا که: وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ بْنُ اللهِ وَقَالَتِ النَّرَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ (التوبه :٣٠) یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔پھر اسی ذکر کے ساتھ دوسری آیت میں فرمایا کہ سُبْحَانَه عَمَّا يُشْرِكُونَ۔پس قرآن کریم کے نزدیک سوائے اسلام کے سب مذاہب میں شرک ہے۔اور جس طرح غیر اہل کتاب مشرک ہیں اسی طرح دوسرے لوگ بھی مشرک ہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اسلام کے سوا سب ہی مشرک ہیں تو پھر ناموں میں کیوں فرق کیا۔سواس کا جواب یہ ہے کہ ناموں میں فرق شناخت کے لئے کیا جاتا ہے کہ ایک جماعت دوسری سے الگ ہو جائے اور پہچانی جائے۔تمام نام اسی لئے رکھے جاتے ہیں تا ایک چیز