خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 187

خطبات محمود جلد (5) ۱۸۷ بد اگر کہو ہاتھ سے تو ہاتھ تو سب کے ہوتے ہیں۔اگر کہو قلم سے تو قلم بھی سب کے پاس ہوتی ہے۔اگر کہو سیاہی سے۔تو سیاہی بھی ہر ایک رکھتا ہے۔اور اگر کہو کا غذ سے۔تو کاغذ بھی ہر ایک کے پاس ہوتا ہے۔پھر وہ کیا چیز ہے جس کی موجودگی ایک کے خط کو بہت عمدہ اور خوبصورت بنادیتی ہے اور جس کی عدم موجودگی دوسرے کے خط کو بدصورت اور بدنما بنا دیتی ہے۔یہ دراصل ایک معمولی سی حرکت اور خفیف سا بیچ ہوتا ہے اگر اس کے متعلق کوئی خوشنویس بتائے تو سننے والا حیران ہو کر کہہ دیگا کہ کیا اس ذراسی حرکت کے نتیجہ میں ایسا اعلیٰ نتیجہ ہو جاتا ہے۔لیکن دراصل بات تو یہی ہے کہ نہایت خفیف سی حرکت کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بہت خوبصورت خط ہوتا ہے اور اسی کی کمی سے بڑ صورت نظر آتا ہے۔اس حرکت کو جاننے والے بڑے بڑے اعلیٰ درجہ کے خوشنویس گذرے ہیں ہندوستان میں ایک خوشنویسں تھا۔جب کوئی فقیر اس کے پاس مانگنے کے لئے آتا۔اور وہ اس پر مہربان ہوتا تو اسے ایک حرف لکھ کر دے دیتا۔اس کا ایک حرف آسانی سے ایک روپیہ کو بک جاتا۔جس طرح آجکل قطع نمائش کے لئے لگائے جاتے ہیں۔اسی طرح اس کے ایک ایک حرف کو زینت کے طور پر لوگ لگاتے تھے۔لیکن اس میں کوئی نئی چیز نہیں تھی۔صرف ہاتھ کی حرکت ہی تھی جو اس کے خط کو خوبصورت کر دیتی تھی۔اس کو اگر وہ بیان کرتا تو ہر ایک اس بات کو نہ سمجھ سکتا کہ اتنی سی معمولی حرکت سے ایسا خوبصورت حرف کس طرح لکھا جا سکتا ہے۔لیکن خوبصورتی کا باعث وہی حرکت تھی۔تمام پیشوں کا یہی حال ہے۔ایک ہی لکڑیاں چیر نے والا آرہ۔اور ایک ہی طرح کے سب آدمی ہوتے ہیں مگر ایک کی بنائی ہوئی چیز ایسی عمدہ ہوتی ہے کہ انسان اس کی طرف سے آنکھیں نہیں ہٹانا چاہتا۔اور دوسرے کی ایسی ہوتی ہے کہ دیکھ کر منہ پھیر لیتا اور کہتا ہے کہ اس نے تو لکڑی کو ہی خراب کر دیا ہے ان دونوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں اتنا بڑا فرق پیدا کرنے والی بھی ایک حرکت ہی ہوتی ہے جسے اگر بیان کیا جائے تو سننے والا حیران رہ جائے کہ یہ اس بات کا موجب کس طرح ہو سکتی ہے۔اسی طرح کھانا پکانے والے ہیں۔ایک ایسا علیٰ درجہ کا پکاتا ہے کہ اگر انسان کو بھوک نہ بھی ہو تو بھی دیکھ کر اشتہاء پیدا ہو جاتی ہے۔اور ایک ایسا پکاتا ہے کہ اگر سخت بھوک لگی ہوئی ہو تو بھی کھانا دیکھ کر