خطبات محمود (جلد 5) — Page 183
خطبات محمود جلد (5) ۱۸۳ پر آکر مانگنے کے لئے جب آواز دیتے ہیں تو کچھ لئے بغیر نہیں ملتے۔ ان کو خر گدا کہتے ہیں اور دوسرے وہ جو آکر آواز دیتے ہیں۔ اگر کوئی دینے سے انکار کر دے تو اگلے دروازہ پر چلے جاتے ہیں ۔ ان کو نر گدا کہتے ہیں ۔ آپ فرماتے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور نر گرا نہیں بننا چاہئیے ۔ بلکہ خر گدا ہونا چاہئیے ۔ اور اسوقت تک خدا کی درگاہ سے نہیں ہٹنا چاہئیے ۔ جب تک کچھ مل نہ چکے۔ اس طرح کرنے سے اگر دعا قبول نہ بھی ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ کسی اور ذریعہ سے ہی نفع پہنچا دیتا ہے پس دوسرا گر دعا کے قبول کروانے کا یہ ہے کہ انسان خر گدا بنے نہ کہ نر گرا۔ اور سمجھ لے کہ کچھ لے کر ہی ہٹنا ہے خواہ پچاس سال ہی کیوں نہ دعا کرتا رہے۔ یہی یقین رکھے کہ خدا میری دعا ضرور سنے گا ۔ یہ خیال بھی اپنے دل میں نہ آنے دے کہ نہیں سنے گا۔ اگر چہ جس کام یا مقصد کے لئے وہ دعا کرتا ہو وہ بظاہر ختم شدہ ہی کیوں نہ نظر آئے۔ پھر بھی دعا کرتا ہی جائے۔ لکھا ہے ایک بزرگ ہر روز دعا مانگا کرتے تھے۔ ایک دن جبکہ وہ دعا مانگ رہے تھے انکا ایک مرید آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اس وقت ان کو الہام ہو ا جو اس مرید کو بھی سنائی دیا۔ لیکن وہ ادب کی خاطر چپکا ہو رہا۔ اور اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔ دوسرے دن پھر جب انہوں نے دعا مانگنی شروع کی تو وہی الہام ہو ا جسے اس مرید نے بھی سنا۔ اس دن بھی وہ چپ رہا۔ تیسرے دن پھر وہی الہام ہوا۔ اس دن اس سے نہ رہا گیا۔ اس لئے اس بزرگ کو کہنے لگا کہ آج تیسرا دن ہے کہ میں سنتا ہوں ہر روز آپ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری سنتا ہوں ہر روز آپ کو خداتعالی فرماتا ہے کہ میں تمر دعا قبول نہیں کروں گا۔ جب خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے تو پھر آپ کیوں کرتے ہیں۔ جانے دیں۔ انہوں نے کہا۔ نادان ! تو صرف تین دن خدا کی طرف سے یہ الہام سنکر گھبرا گیا ہے اور کہتا ہے کہ جانے دو۔ دعا ہی نہ کرو۔ مگر مجھے تیس سال ہوئے ہیں یہی الہام سنتے لیکن میں نہیں گھبرایا ۔ اور نہ نا امید ہوا ہوں ۔ خدا تعالیٰ کا کام قبول کرنا ہے اور میرا کام دعا مانگنا۔ تو خواہ مخواہ دخل دینے والا کون ہے؟ وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کر رہا ہوں ۔ لکھا ہے دوسرے ہی دن الہام ہوا کہ تم نے تیس سال کے عرصہ میں جس قدر دعا ئیں کی تھیں ہم نے وہ سب قبول کر لی ہیں ! ۔ تو اللہ سے کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئیے ۔ نا امید ہونے ا یہ مضمون حدیث میں بھی بیان ہوا ہے کہ قبولیت دعا میں جلد بازی نہیں چاہئیے ۔ ( بخاری کتاب الدعوات باب يستجاب العبد مالم يستعجل ) ۔