خطبات محمود (جلد 5) — Page 170
خطبات محمود جلد (5) ۱۷۰ وہ اس وقت تک بہشت میں نہیں جائے گا جب تک خدا تعالیٰ اسے نہیں کہے گا کہ چونکہ تم نے میرے لئے ماں باپ کی نافرمانی کی تھی اس لئے میں ہی تمھیں بخشتا ہوں ۔ خدا جانے یہ بات کہاں تک درست ہے مگر اس میں اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کی اعلیٰ درجہ کی مثال ہے۔ باوجود اس کے کہ اطاعت اور فرمانبرداری ایسی ضروری ہے پھر بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس سے روگردانی کر بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے دل میں کچھ خوش کن خیالات پیدا کر لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے یہ ہو جائے گا۔ یا وہ ہو جائیگا۔ لیکن ان کے یہ خیالات شیخ چلی کے منصوبہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ مثل مشہور ہے۔ کہ شیخ چلی نے کہا کہ مجھے یہ جو مزدوری ملے گی اس کے انڈے خرید لوں گا ۔ ان کو فروخت کر کے مرغی پھر بکری ۔ گھوڑا۔ اونٹ ۔ وغیرہ خریدتا جاؤں گا۔ اور اس طرح تجارت کرتے کرتے جب بہت بڑا مالدار ہو جاؤں گا تو بادشاہ کی لڑکی سے شادی کر لوں گا۔ پھر بچے پیدا ہوں گے۔ وہ جب میرے پاس کچھ مانگنے آیا کریں گے تو میں یوں لات ماروں گا۔ جب اس نے لات ماری تو وہ گھی کا ملکہ جس کے اٹھانے کے عوض میں اسے مزدوری ملتی تھی زمین پر گر کر ٹوٹ گیا مالک ملکہ نے اسے گردن سے پکڑ کر خوب مرمت کی ۔ تب اسے ہوش آیا۔ تو اس قسم کے خیالات محض اوہام ہوتے ہیں کبھی ان سے نتیجہ نہیں نکلا کرتا۔ کبھی خفیہ سازشیں اور منصوبے کرنے والے بادشاہ نہیں ہوئے اور کبھی ان کی شرارتوں سے حکومتیں نہیں گر جاتیں۔ اگر کوئی حکومت گرتی ہے تو اس کے اور ہی اسباب ہوتے ہیں۔ آج تک تاریخ میں سے اس قسم کا ایک نمونہ بھی نہیں مل سکتا کہ کسی زمانہ میں خفیہ سازشیں کرنے والوں نے حکومت کے تغیر سے فائدہ اٹھایا ہو۔ بلکہ ایسا ہی ہوا ہے کہ آنے والوں نے آکر سب سے پہلے کام ہی یہی کیا ہے کہ ان کو نیست و نابود کیا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب انہوں نے اس سلطنت سے بغاوت کی جس کے ان پر بہت سے احسان تھے تو ہم سے کیوں نہ کریں گے۔ جس کے ابھی یہ رہین منت نہیں ہیں ۔ تو ایسے لوگ ہمیشہ نا کام اور نامراد ہی رہتے ہیں۔ اس زمانہ میں بھی کچھ لوگ ہیں جو خفیہ تدبیریں کرتے ہیں لیکن وہ یا د رکھیں کہ ان کا بھی وہی انجام ہوگا۔ جوان سے پہلوں کا ہوا۔ ہماری جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بار بار اس طرف