خطبات محمود (جلد 5) — Page 165
خطبات محمود جلد (5) ܬܪܙ انسانوں کے لئے مجبور کر کے ایسے سامان مہیا کرتا ہے کہ جن سے انہیں فائدہ ہو۔یہی رمضان کا مہینہ دیکھو۔سب کو جاگنے کے لئے مجبور کر دیا۔گو یا خود جگا کر کہہ دیا کہ لو جو مجھ سے مانگنا ہے مانگ لو۔کیسا نادان ہے وہ شخص جو اس موقع سے فائدہ نہیں اُٹھاتا۔خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے سب سامان مہیا کر دیئے ہیں۔باقی ان سے فائدہ اٹھانا یہ ہمارا اپنا کام ہے۔کچھ عرصہ سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری جماعت میں دعائیں کرنے کے متعلق سستی ہوتی جاتی ہے۔کئی لوگوں کو رویا میں بھی اس سے آگاہ کیا گیا ہے۔کہ قادیان کے لوگ دعاؤں میں شست ہو گئے ہیں۔اس سستی کو میں خود بھی محسوس کر رہا ہوں۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری جماعت نے اپنی کا میابیاں دیکھ کر سمجھ لیا ہے کہ بس اب ہمارا کام ہو گیا ہے لیکن کیسا نادان ہے وہ شخص جو راستہ میں سست ہو جائے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسی ایک کچھوے اور خرگوش کی کہانی مشہور ہے کہ دونوں ایک جگہ سے ایک مقام کی طرف اس شرط پر روانہ ہوئے کہ کون پہلے پہنچتا ہے۔خرگوش جلدی جلدی چھلانگیں مارتا ہو ا مقررہ مقام سے کچھ ورے جا کر اس خیال سے سو گیا کہ کچھوا یہاں تک بہت دیر کو پہنچے گا اتنا عرصہ میں آرام کر لوں لیکن وہ وہاں ہی سویا رہا۔جب کچھوا آہستہ آہستہ مقررہ مقام پر پہنچ گیا تو اس کی نیند کھلی تو یہ بہت کم عقلی کی بات ہے کہ انسان اپنی ترقی پر فخر کر کے کہہ دے کہ میری ہمت اور کوشش کی حد ہو گئی ہے۔دوسری قوموں کو تو جانے دو۔لاہوریوں کو ہی دیکھو۔ابھی تک تمہارے راستہ سے دور نہیں ہوئے۔پس تمھیں ست نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ مومن کبھی شست نہیں ہوتا۔خلافت کے متعلق جب جھگڑا پیدا ہوا تو میں نے بہت دُعائیں کیں کہ البہی اس کے متعلق حق حق سمجھا دے۔آخر رات کو ارادہ کیا کہ میں وہاں نہیں جاؤں گا۔جب فیصلہ ہو جائے گا تب جاؤں گا لیکن جب صبح کو اٹھا تو میری زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔کہ قُل مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَانُكُمْ۔میں نے قُلْ سے پتہ لگالیا کہ اگر یہ نہ ہوتا تو گویا ہم کو جھاڑ تھی لیکن اب ہماری تائید میں ہے۔یعنی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہد و کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوں تو کیا خدا اس بات کا محتاج ہے کہ تمہاری ترقی تمہارے آرام