خطبات محمود (جلد 5) — Page 163
خطبات محمود جلد (5) ۱۶۳ میں ایک جماعت کا اتحاد ہو جاتا ہے یوں تو دوسرے دنوں میں بھی مسلمانوں میں ایک ایسی جماعت ہوتی ہے جو راتوں کو عبادت کرتی ہے مگر اس زمانہ میں لوگوں کا اکثر حصہ ایسا ہے جو تمام رات آرام سے پڑا سوتا ہے لیکن رمضان کے مہینہ میں سحری کی خاطر سب کو اٹھنا پڑتا ہے اور جب کوئی اٹھتا ہے تو سوائے اس کے جو بہت ہی غافل ہو ہر ایک کچھ نہ کچھ عبادت بھی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ جو مجھے وقت ملا ہے اس سے فائدہ ہی اٹھا لوں۔تو جس طرح ایک چیز میں محدود ہو کر بہت زور پیدا ہو جاتا ہے۔اسی طرح ایک جگہ ہر روز ہزاروں لاکھوں آدمیوں کی دعائیں پڑنے سے بھی بہت زور پیدا ہو جاتا ہے رمضان میں لاکھوں لاکھ انسانوں کی پے در پے دعائیں جب خدا کے حضور پہنچتی ہیں تو ضرور قبول ہو جاتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں رڈ کرنے میں بڑا محتاط ہے۔پس ایسی حالت میں اگر ظاہری سامان نہ بھی ہوں تو بھی خدا تعالیٰ قبول کر لیتا ہے۔پھر ان دعا کرنے والوں سے بعض ایسے بندے بھی ہوتے ہیں جن کی دعائیں خدا کے حضور منظور ہوئی ہوتی ہیں اور بعض کمزور بھی ہوتے ہیں مگر جب سارے مل کر دعائیں کرتے ہیں تو سب کی قبول ہو جاتی ہیں اور کمزور بھی کامیاب ہو جاتے ہیں۔دیکھو فو جیں لڑتی ہیں ان میں سے سارے سپاہی بہادر نہیں ہوتے مگر ایک پلٹن ایک کمپنی ایک رجمنٹ ایک بٹالین میں سے جب دو تین آدمی بہادری کے تمغے حاصل کر لیتے ہیں تو ساری بٹالین مشہور ہو جاتی ہے۔اب کوئی یہ نہیں کہتا کہ اس میں کے فلاں فلاں سپاہی بہادر نہیں۔بلکہ سب کو مجموعی طور پر بہادر کہا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ خاص انعام خاص اشخاص کو ہی ملتے ہیں۔مگر عام شہرت میں بُز دل بھی شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح رمضان کے مہینہ میں جب ایک جماعت ملکر دعائیں کرتی ہے تو کمزوروں کی دعائیں بھی قبول ہو جاتی ہیں۔ان دنوں کی دعائیں خاص طور پر مقبول ہوتی ہیں اس لئے کہ ہزاروں انسانوں کی توجہ مل کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ رو نہیں کرتا۔پھر تمام کی تمام جماعت ایک کرب کی حالت میں ہوتی ہے ایک نہیں دو نہیں بلکہ سارے کے سارے ایسے وقت میں جو کہ آرام حاصل کرنے کا ہوتا ہے خدا کے حضور کھڑے ہو کر دعا کرتے ہیں۔پھر کس طرح ممکن ہے کہ ان کی دُعا