خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 158

خطبات محمود جلد (5) ۱۵۸ وقت پر بویا جائے تو ہو تو جاتی ہیں مگر ادنی درجہ کی ہوتی ہیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں کہ اگر انہیں بے وقت بویا جائے تو سبزہ تو ہو جاتا ہے مگر پھل کوئی نہیں آتا یعنی نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ہاں اگر اپنے وقت پر انہیں بویا جائے تو ان سے بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔یہی بات تمام پیشوں میں چلتی ہے۔یعنی ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔لوہار لو ہے کو تپاتا ہے اس کے تپنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔اس وقت کی ضرب جیسی کارآمد اور مفید ہوتی ہے ایسی آگے پیچھے کی نہیں ہوتی اگر زیادہ گرم ہونے پر ضرب پڑے تو بھی خراب کر دیتی ہے۔اور اگر تھوڑے گرم پر پڑے تو بھی۔لوہار خوب سمجھتا ہے کہ مجھے کس وقت ضرب لگانی چاہئیے۔تمام کاموں کا یہی حال ہے۔دیکھو اب جولڑائی ہو رہی ہے اس کے متعلق بھی اخباریں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ سلطنتوں کے ذمہ دار اشخاص یہی کہتے ہیں کہ ہم اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دشمن کو بالکل کچل دیں۔یوں تو ہر روز ہی لڑائی ہوتی ہے مگر اس کے خاص خاص وقت بھی مقرر ہوتے ہیں اس وقت کی ضرب لگی ہوئی دشمن کو ہلاک کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کا جرنیل وہی سمجھا جاتا ہے جو ایسے وقت کو معلوم کر سکے۔میں نے ہر ایک کام کے لئے جو وقت مقرر بتایا ہے وہ کوئی جادو اور ٹونے کی طرح نہیں ہوتا کہ اس کے آنے سے کوئی خاص اثر پید ا ہو جاتا ہے اس لئے وہ کام ہو جاتا ہے بلکہ میری اس سے یہ مراد ہے کہ جس وقت کسی کامیابی کے تمام سامان مہیا ہو جاتے ہیں وہی اس کے کرنے کا وقت ہوتا ہے۔اگر گیہوں کا دانہ ایک خاص وقت میں بونے سے اُگتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت اس میں کوئی خاص بات پیدا ہو جاتی ہے بلکہ یہ کہ گیہوں کے اُگنے کے لئے جو سامان ضروری ہوتے ہیں وہ اس وقت مہیا ہو جاتے ہیں اگر وہی سامان کسی دوسرے وقت بھی مہیا ہو سکیں تو اس وقت بھی ضرور اُگ آئے۔تو ضروری سامانوں کے مہیا ہونے کا نام وقت مقررہ ہوتا ہے۔مثلاً انسان کا معدہ ہے رات بھر آرام پاتا ہے۔صبح کے وقت تمام اعصاب امن اور سکون میں ہوتے ہیں۔پہلی غذا ہضم ہو چکی ہوتی ہے اور وہ وقت ایسا ہوتا ہے جبکہ معدہ چاہتا ہے کہ اس میں غذا ڈالی جائے اور اعصاب اس بات کے منتظر ہوتے ہیں کہ خوراک کو استعمال کر کے طاقت حاصل کریں۔اس لئے دانا لوگوں نے یہ