خطبات محمود (جلد 5) — Page 5
خطبات محمود جلد (5) مگر اس زمانہ میں بہت لوگ ایسے ہیں کہ جتنی ان کی آمدنی نہیں ہوتی اس سے زیادہ خرچ کر دیتے ہیں اور بہت ایسے ہیں کہ جب ان کو کہا جائے کہ تم اپنی بیوی بچوں کو کیوں خرچ نہیں دیتے تو کہہ دیتے ہیں کہ تنخواہ تھوڑی ہے ہم شریف آدمی ہیں اپنے اخراجات چلائیں یا ان کو دیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا نام شرافت ہے تو پندرہ کروڑ تنخواہ والا بھی بیوی بچوں کے لئے کچھ نہیں بچا سکتا۔کیونکہ یورپ نے عیش و عشرت کے سامان اس کثرت سے پیدا کر دیئے ہیں کہ جس قدر بھی روپیہ ہو بہت جلدی صرف ہو جاتا ہے لیکن وہ لوگ جو بیوی بچوں کے لئے خرچ کر نیوالے ہوتے ہیں وہ تو دس دس اور پندرہ پندرہ روپے کے ملازم ہو کر بھی کرتے ہیں اور جو نہیں کرنا چاہتے وہ سینکڑوں روپیہ کی آمدنی کے ہوتے ہوئے بھی نہیں کرتے۔اور دوسرے ہی فضول اخراجات میں روپیہ کو ضائع کر دیتے ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنایا کرتے تھے کہ ب شخص کو اپنے باپ کی بہت سی دولت مل گئی اس نے اپنے دوستوں اور آشناؤں کو بلا کر پوچھا کہ مجھے دولت کو خرچ کرنے کا طریق بتاؤ۔کسی نے کچھ بتا یا کسی نے کچھ لیکن اسے کوئی پسند نہ آیا۔ایک دن وہ بازار سے گزر رہا تھا کہ بزاز کے کپڑے پھاڑنے کی اسے آواز آئی۔جس کو اس نے بہت پسند کیا اور اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ میرے سامنے کپڑے کے تھان لا کر پھاڑا کرو۔اس طرح اس نے کپڑے پھڑوانے شروع کئے اور چر چر کی آواز سننے لگا۔اور ہزارہا روپیہ اس پر خرچ کر دیا۔تو خرچ کرنے کے لئے تو وہ بھی کہتا تھا کہ کپڑے کے پھٹنے کی بڑی مزیدار آواز ہے۔جو کانوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہے۔لیکن کیا یہ بھی کوئی خرچ کرنا تھا پس کسی مال کو نا جائز اور فضول طور پر خرچ کرنا کوئی بھی مشکل کام نہیں ہے اگر کسی کے پاس کروڑوں کروڑ روپیہ بھی ہو تو وہ بھی سب کچھ خرچ کر کے کنگال اور نادار بن سکتا ہے اور ایسا اکثر دنیا میں ہوتا ہے۔ہاں رو پہیہ کا جائز طور پر اور ٹھکانے پر خرچ کرنا مشکل ہے اور بہت مشکل ہے۔حضرت خلیفہ اسیح اوّل رضی اللہ عنہ کا یہ قول ہے کہ روپیہ کمانا آسان ہے مگر خرچ کرنا بہت مشکل ہے۔واقعہ میں یہ بہت ہی سچا قول ہے۔دنیا میں بہت لوگ ہیں جو بہت بہت روپیہ کماتے ہیں لیکن انہیں خرچ کرنا نہیں آتا اس لئے کنگال ہی رہتے ہیں۔اور بہت ایسے ہیں جو کم کماتے ہیں۔مگر چونکہ انہیں خرچ کرنا آتا ہے اس لئے آسودہ رہتے ہیں۔