خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 139

خطبات محمود جلد (5) ۱۳۹ لئے مفید نہیں رہی کیونکہ پرانی ہو گئی ہے یا اس لئے کہ نئے علوم نئی ایجادیں اور نئے اصول نکل آئے ہیں اب اس کی ضرورت نہیں رہی یہ نہ کبھی پہلے کسی زمانہ میں ہوا ہے نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا کہ لوگ دعا سے مستغنی ہو جاویں بلکہ جتنا انسان ترقی کرتا جائے گا اتنا ہی زیادہ دعا کا محتاج ہوگا۔بہت لوگوں نے اس بات کو سمجھا نہیں کہ علوم وفنون کی ترقی انسانی اعمال کی ترقی اور زیادہ دعا کا محتاج کر دیتی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک شخص کے پاس اتنا بوجھ ہو جسے وہ مشکل سے اٹھا سکتا ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ کسی اور کو اٹھوانے کے لئے آواز دے مگر ایک ایسا شخص جس کے پاس ایسا بوجھ ہو کہ وہ اکیلا اٹھا ہی نہ سکے۔تو ضرور ہے کہ اور کو بلائے۔کیونکہ جس قدر بوجھ زیادہ ہوتا ہے اسی قدر مدد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جس قدر علوم وفنون بڑھے انسان کے اعمال بڑھ گئے۔اور جب اعمال بڑھ گئے تو ان کے لئے مدد کی بھی زیادہ ضرورت ہوئی۔کیونکہ علوم کے بڑھنے کے ساتھ محنت اور مشقت بھی بڑھ گئی دیکھ لیجئے جس وقت انسان صرف شکار پر گزارہ کرتے اور لباس نہیں پہنتے تھے اس وقت انہیں صرف یہی کرنا پڑتا تھا کہ شکار کرتے اور پتھروں سے آگ نکال کر بھونتے اور کھا لیتے بس دن رات میں انہیں یہی محنت کرنی پڑتی تھی لیکن جب علوم نے ترقی کی تو مشکلات اور محنت دونوں بڑھ گئیں تو علوم کی ترقی ذمہ داریوں اور بوجھوں کی ترقی ہوتی ہے وہ تو میں جو اس وقت ترقی پر ہیں ان کو دیکھو تو پتہ لگے کہ کس قدر کام میں مشغول رہتی ہیں۔لیکن جن قوموں نے ان کے مقابلہ میں ترقی نہیں کی وہ بہ نسبت ان کے کم محنت و مشقت کرتی ہیں کیونکہ وہ اگر بہت زیادہ محنت کریں تو ان کی زندگی مشکل ہو جائے۔ان کا آپس کا مقابلہ بہت زور سے ہو رہا ہے اور یہی بات ان کو دن رات محنت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔پس علوم کی ترقی انسانی ذمہ داریوں اور بوجھوں کو کم نہیں کرتی بلکہ اور زیادہ بڑھا دیتی ہے چونکہ اس زمانہ میں علوم نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اس لئے جس قدر دعا کی ضرورت پہلے زمانہ میں تھی۔آج اس سے بہت بڑھ کر ہے۔لیکن تعجب اور حیرت کا مقام ہے کہ انسان جس وقت سب سے زیادہ دعا کا محتاج ہے اس وقت سب سے زیادہ غفلت اور لا پرواہی سے کام لے رہا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے کہ جب کسی کو معمولی سی حرارت ہو تو دوا پئے۔لیکن