خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 130

خطبات محمود جلد (5) چونکہ لڑائی میں شامل ہونا اس کی اپنی اغراض کے لئے تھا اس لئے اس نے کہا کہ میں جنت میں جانے کے قابل نہیں ہوں۔دوسری بات یہ بھی معلوم ہو گئی کہ اس نے باوجود اسلام کی صداقت کا قائل ہونے کے اسلام کی اس لئے تائید نہیں کی تھی کہ یہ ایک صداقت ہے بلکہ اپنی غرض کے لئے لڑا تھا۔چنانچہ وہی صحابی جو اس کے ساتھ ساتھ تھے کہتے ہیں کہ جب اسے زخموں کی وجہ سے سخت درد اور تکلیف ہوئی تو اس نے برچھی پر اپنا سینہ رکھ کر زور سے دبایا۔اور اس طرح اپنے آپ کو ہلاک کر لیا۔وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوڑے ہوئے آئے اور کہا۔یا رسول اللہ ! آپ کو مبارک ہو۔آپ فلاں آدمی کے معاملہ میں بالکل سچے نکلے۔اس نے خود کشی کر لی۔لے تو ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو صداقت کو سمجھ کر صداقت کی خاطر تائید نہیں کرتے۔بلکہ اپنی اغراض کو مد نظر رکھ کر ایسا کرتے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو گو نا حق پر ہوتے ہیں مگر اپنے آپ کو حق پر سمجھ کر حق کی مخالفت کرتے ہیں۔اور ایک وہ ہوتے ہیں جو اپنے دشمن کو حق پر سمجھتے ہوئے بعض اغراض کی وجہ سے مخالفت کرتے ہیں اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ مخالفت کرنے والا اپنے آپ کو بھی ناحق پر سمجھتا ہے اور اپنے مخالف کو بھی۔ایسے سب لوگ جھوٹ سے کام لے لیتے ہیں۔دوسرا گروہ وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔اور ہوتا بھی حق پر ہی ہے مگر اس کی تائید اس لئے نہیں کرتا کہ وہ حق ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ اس کو اپنے اغراض مدنظر ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی جھوٹ بول لیتے ہیں کیونکہ انہیں سچ کی قدر نہیں ہوتی۔پس گو ایسا آدمی صداقت پر بھی ہو اور اپنے آپ کو صداقت پر سمجھتا بھی ہو۔جھوٹ بول لیتا ہے۔لیکن جو انسان سچ مچ حق پر ہوتا ہے اور اسے اس لئے قبول کرتا ہے کہ حق ہے نہ کہ کسی اور نفسانی غرض کے لئے وہ جھوٹ نہیں بولتا۔پھر وہ انسان بھی جو باطل پر ہوتا ہے اگر اس کی تائید کے لئے اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ اسے باطل نہیں بلکہ حق پر سمجھتا ہے وہ بھی جھوٹ نہیں بولتا۔لیکن ان کے مقابلہ بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر