خطبات محمود (جلد 5) — Page 113
خطبات محمود جلد (5) ۱۱۳ پتہ بھی نہیں لگتا کہ یہ بھی کوئی بوجھ تھا جو ہلکا ہو گیا ہے۔ لیکن اگر اس کام کو فردا فردا کرنے لگو تو بہت مشکل پیش آ جاتی ہے۔ دنیا میں انسان کے لئے جتنی ضروریات زندگی ہیں ان کو اگر ایک انسان فردا فردا مہیا کرنے لگے تو کس قدر مشکل کا سامنا ہو مگر تمام دنیا کے اجتماع نے ان کا مہیا ہونا بہت آسان کر دیا ہے ہم نے بچپن میں سکول میں ایک قصہ پڑھا تھا کہ کس طرح مل کر کام کرنے میں بظاہر پتہ بھی نہیں لگتا اور کام بھی ہو جاتا ہے۔ وہ قصہ والا لکھتا ہے کہ ایک شخص نے اپنے بھتیجے کو کہا کہ کل تمھیں ہم ایک ایسا لڈو دیں گے جو ایک لاکھ آدمیوں نے بنایا ہو گا اس بات کو سنکر وہ بہت خوش ہوا۔ دوسرے دن اس امید پر کھانا بھی نہ کھایا کہ اتنے آدمیوں کا بنایا ہوا جو لڈو ہو گا وہ بہت بڑا اور نہایت عمدہ ہوگا۔ اس لئے اسی کو کھاؤں گا۔ دوسرے دن جب اس کے سامنے لڈو رکھا گیا تو وہ وہی تھا جو بازار میں بکتا ہے اس نے کہا کہ آپ تو کہتے تھے کہ ایسا لڈو دیں گے جو لاکھ آدمی نے بنایا ہوگا اور یہ ایسا ہے کہ ایک انسان بھی ایسے ایسے کئی لڈو دن میں بنا سکتا ہے۔ اس نے بتانا شروع کیا کہ دیکھو اس میں کون کون سی چیزیں پڑی ہیں۔ پھر ان کے مہیا کرنے میں کتنے آدمیوں کی محنت صرف ہوئی ہے۔ اس طرح اس نے بہت سے انسان گنا دیئے ۔ واقعہ میں بات بھی ٹھیک ہے اگر فردا فردا ہر ایک انسان لڈو بنانے کی کوشش کرے۔ تو اُسے پتہ لگ جائے ۔ کہ کس قدر اس کے لئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے یوں تو ایک بہت معمولی چیز سمجھی جاتی ہے۔ اور پیسے کے دو دوخرید لئے جاتے ہیں لیکن اس کا سارا کام کوئی خود کرے تو اسے پتہ لگے کہ یہ ایسا مشکل ہے کہ حکومتوں کا فتح کرنا بھی ایسا نہیں ۔ اسی طرح روٹی کو دیکھ لو اب تو بازار سے آٹا خرید لیا جاتا ہے اور پکا کر کھالی جاتی ہے۔ لیکن اگر ایک انسان اس کے تمام اسباب کو خود تیار کرے اور پھر غلہ جمع کرے تو ممکن ہے کہ اس کی تمام عمر ختم ہو جائے اور وہ روٹی نہ تیار کر سکے ۔ اب جس قدر آسانیاں ہیں یہ اسی اجتماعی قوت کا نتیجہ ہیں جو دنیا میں کام کر رہی ہے۔ پس جب کوئی شخص جماعت میں شامل ہو جاتا ہے تو ایک تو یہ کہ اگر وہ شست ہو تو بھی محنت اور مشقت کرنے لگ جاتا ہے دوسرے جو کام اس کے لئے ناممکن ہوتا ہے وہ بھی ممکن ہو جاتا ہے اور ایسے کام جس کو انسان اگر ساری عمر بھی لگا رہے تو نہیں کر سکتا۔ تقسیم عمل میں آکر اس آسانی