خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 2

خطبات محمود جلد (5) لحاظ سے بھی کہ ہر ایک چیز خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کی فرمانبرداری کرتی ہے گو خدا کو بھی بعض لوگ نہیں مانتے مگر جو اس کے قوانین ہیں ان سے ذرہ بھر نکلنا بھی کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کی بھی طاقت میں نہیں ہے۔مثلاً آنکھوں سے دیکھنا اور کانوں سے سنا خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے اب یہ کوئی نہیں کر سکتا کہ آنکھوں سے سننے کا کام لے اور کانوں سے دیکھنے کا۔تو خدا کے قانون سے کوئی نہیں نکل سکتا۔اس لئے بھی سب عباد الرحمن ہیں۔لیکن باوجود اس کے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بار بار فرمایا ہے کہ عبادالرحمن بن جاؤ۔چنانچہ پاک روحوں کے لئے فرماتا ہے فَاذ خُلِيَ فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی۔(الفجر :۳۰) میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔حالانکہ اس سے پہلے بھی وہ خدا تعالیٰ کے بندے تھے۔کیونکہ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا تھا خدا ہی ان کا رازق تھا۔خدا ہی ان کا مالک تھا۔خدا ہی ان کو قائم رکھتا تھا۔پھر فَادْخُلِي فِي عِبَادِی جو فر ما یا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا بندہ ہونا دورنگ میں ہوتا ہے۔غرض ایک لحاظ سے تو تمام انسان خدا کے بندے ہیں لیکن ایک لحاظ سے بعض بندے ہوتے ہیں اور بعض نہیں ہوتے۔اس لحاظ سے تو خدا کے بندے وہ کہلاتے ہیں جو اس کے تمام احکام کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہیں۔اور جو نہیں کرتے وہ اس لحاظ سے خدا کے بندے نہیں ہوتے بلکہ شیطان کے بندے ہوتے ہیں اپنے نفس کے بندے ہوتے ہیں اور انسانوں کے بندے ہوتے ہیں۔ان آیات میں خدا تعالیٰ نے عباد الرحمن کی تعریف فرمائی ہے اور یہاں وہی لوگ مراد ہیں جن کا ذكر فَادْخُلِي فِي عِبَادی میں ہے۔اور یہاں عبد سے مراد عابد ہے۔غرض ان آیات میں عبادالرحمن کی کچھ باتیں خدا تعالیٰ نے بتائی ہیں کہ جن میں وہ پائی جائیں وہ عبادالرحمن ہوتے ہیں۔اس وقت میری غرض ان میں سے ایک بات کو بیان کرنا ہے جو سب سے آخری آیت میں بیان فرمائی ہے خدا تعالیٰ نے عباد الرحمن کی ایک تعریف یہ فرمائی ہے کہ وَالَّذِينَ إِذَا أَنْفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا - جب وہ انفاق یعنی خرچ کرتے ہیں تو یہ دو باتیں ان کے مد نظر ہوتی ہیں۔اوّل یہ کہ لم يُسْرِ فُواخرچ کرنے میں اسراف نہیں کرتے۔دوئم لَمْ يَقْتُرُ والخل نہیں کرتے۔مال کو جمع نہیں کرتے۔قتر کے معنی مال کے جوڑنے اور جمع کرنے کے ہیں۔قاتر