خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 107

خطبات محمود جلد (5) 1۔2 وہ بہت کمزور جانور ہے۔بہت سے کیڑے تمدن سے قائم ہیں ان میں انسانوں کی طرح ایک مدنیت ہے اور وہ ان میں فطرتا پیدا کی گئی ہے۔شہد کی مکھیوں اور بھڑوں میں اور بہت سے جانور اسی قسم کے ہیں کہ ان میں اور اور ذرائع مقرر ہیں۔مگر ہر ایک کی پرورش کے لئے سلسلہ اور انتظام پیدا کیا ہے۔غرض حقیر حقیر چیزوں کو دیکھ کر الحمد للہ رب العالمین منہ سے نکلتا ہے۔حقیر سے حقیر چیز کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کے نیچے لیا ہوا ہے ایسے خدا پر ایمان لانے والا کب خیال کر سکتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ ہر حالت میں یقین رکھتا ہے کہ میرے ساتھ بہت اچھا معاملہ ہورہا ہے۔باقی رہیں یہ خواہشیں کہ میں اور ترقی کروں یہ جہنم نہیں ہوتیں یہ خوشی کا موجب ہی ہوتی ہیں۔اور راحت ہی ہوتی ہیں۔جہنم سے انسان کی کوئی راحت نہیں رہتی۔ایک بادشاہ کے رات اور دن جب وہ اپنی حالت پر مطمئن نہیں ہوتا۔انگاروں پر کٹتے ہیں۔لیکن ایک فقیر جس کے بدن پر کپڑا نہیں ہے وہ جب اپنی حالت پر مطمئن ہوتا ہے تو وہ بادشاہ ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جنت اور دوزخ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے اور اپنے ہاتھ سے انسان ان دونوں کے دروازے کھولتا ہے۔خود دوزخ کا دروازہ اپنے اوپر کھولتا اور پھر چیخ و پکار کرتا ہے۔تم خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور حکمتوں پر غور کرو اور غور کرو کہ تمہیں تمام جہان کی مخلوق سے اعلیٰ بنا یا ہے تو پھر تم کبھی نہیں گڑھ سکتے اور تمہاری زندگی خوشی کی زندگی ہو سکتی ہے یہ دوزخ تمہاری اپنی پیدا کردہ دوزخ ہے اور جنت بھی تمہاری اپنی پیدا کردہ۔حدیث میں آتا ہے۔ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے اس کے لئے جنت میں بھی اور دوزخ میں بھی محل بنا ہوا ہوتا ہے۔اس حدیث کا یہی مطلب ہے۔دونوں محل موجود ہیں تیار کر کے بتا دیئے ہیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ طاقتوں سے کام نہ لے کر اللہ تعالیٰ پر بدظنی کر کے دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے تو وہ ہلاکت اور کفر کی زندگی ہے اور اگر وہ خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھتا اور ان کی قدر کرتا ہے تو اس کے لئے وہی جنت ہے۔نفس کے اندر جو خوشی پیدا ہوتی ہے۔بیرونی خوشی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اگر اس کو آگ میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ آگ بھی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔بعض دفعہ بیماریاں بھی خوشی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ایک عورت کو ایک بیماری تھی۔ایک دن حضرت خلیفہ اول