خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 92

۹۲ 13 خطبات محمود جلد (5) خُدا کی اطاعت کر نیوالے ہی اس کے انعامات کے وارث ہوں گے (فرموده ۱/۲۸ پریل ۱۹۱۶ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کے بعد فرمایا:- فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ يَمَقْعَدِهِمْ خِلْفَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَنْ تُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَقَالُوا لَا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (التوبہ:۸۲:۸۱) انسان کو خدا تعالیٰ نے سب سے بڑے انعامات کا وارث بنایا ہے اور اس کی ترقیات کے لئے بڑے بڑے وسیع راستے کھولے ہیں۔حتی کہ انسان ان راستوں کو محدود نہیں کر سکتا۔جو طریق یا راستے مدارج کے حصول کے لئے مقرر کئے گئے ہیں چہ جائیکہ ان مدارج کو محدود کر سکے۔دنیا کے مختلف پیشے اور علوم بھی اگر انسان گننے لگ جائے تو وہ بھی ایسی کثرت اپنے اندر رکھتے ہیں کہ ان کا گننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ہر سورج انسان کے لئے نئے علوم اور ترقیات لاتا ہے پس جب اس قدر انعامات انسان کے لئے مقرر ہیں تو ضرور تھا کہ اس کے لئے ابتلاء اور مشقتیں بھی مقرر کی جاتیں۔انعامات کا وارث وہی ہوا کرتا ہے جو اپنے آپ کو ان انعامات کا مستحق ثابت کرے۔انعام محنت کے بدلے میں اور کسی استحقاق یا کسی خاص حالت کی وجہ سے ملتے ہیں ورنہ ایک جیسے انسانوں کو انعامات نہیں ملا کرتے پانچ سات آدمیوں میں انعام لینے والا وہی ہوگا جو اپنے اندر کوئی خاص امتیاز رکھتا ہو گا۔جہاں ایسے وسیع انعامات مقرر ہوئے ہیں وہاں ابتلاء بھی مقرر ہیں جس طرح انسان ان انعامات کو جو اس کے لئے مقرر ہیں گن نہیں سکتا اسی طرح انسان ان ابتلاؤں کو بھی جو اُسے پیش آنے والے ہیں گن نہیں سکتا جن میں پڑ کر انسان ان انعامات کا جو اس کے لئے مقرر ہیں وارث ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے جس قدر انعامات غیر محدود ہیں اسی قدر خدا کے ابتلاء بھی غیر محدود ہیں اگر صداقت