خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 88

خطبات محمود جلد (5) ۸۸ لغواور فضول سمجھا۔لیکن مومن انسان کبھی ایسا گمان نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے اندر کی طاقتیں اسے پکار پکار کر کہتی ہیں کہ ہر وقت تجھے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اور یہ جو کچھ دنیا میں ہے یہ تیری ہی ترقی کے لئے اسباب پیدا کئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔دیکھو ہم نے انسان کی ترقی کے لئے زمین و آسمان میں کس قدر اسباب پیدا کئے ہیں اور کس طرح ہر ایک چیز کو انسان کے لئے مستقر کر دیا ہے۔پھر انسان کے اندر کس قدر بڑھنے اور ترقی کرنے کی طاقتیں رکھی ہیں۔کیا اس کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ایماندار ہوتے اور اچھے عمل کرتے ہیں ان کو اور وہ لوگ جو فساد کرتے ہیں ایک ہی جیسا کر دیا جائے۔اگر ایسا ہی ہوتا تو گویا حیوانوں کی طرح ہی انسانوں کی پیدائش بھی ٹھہرتی۔کیونکہ تمام حیوانوں کا ایک ہی درجہ ہوتا ہے اگر تمام انسانوں کا بھی ایک ہی درجہ ہوتا اور ان سے ایک ہی قسم کا سلوک کیا جاتا تو گویا انسان کے لئے اس قدر سامان پیدا کرنے اور خود انسان کو پیدا کرنا ایک لغوامر ہوتا۔مگر خدا تو کوئی لغو بات نہیں کرتا۔جب یہ بات ہے تو کیا وہ متقیوں کو فاجروں کے برابر کر سکتا ہے ہرگز نہیں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک مؤمن اور دوسرے کا فر۔یا متقی اور فاجر۔یعنی مومنوں کے مقابلہ میں ایک تو کافر ہوتے ہیں۔اور ایک وہ جو لفظ تو مومنوں کی جماعت میں داخل ہوتے ہیں مگر عملاً باغی ہوتے ہیں ان کو فاجر کہا جاتا ہے۔ان دو قسم کے لوگوں کی نسبت بتا دیا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے اعمال کا کوئی نتیجہ نہیں ہوگا۔جو سلوک متقیوں سے کیا جائے گا وہی ہم سے ہو گا تو غلطی کرتے ہیں کیا ہم ایمان لا نیوالے اور نیک اعمال کرنے والوں کو مفسدین فی الارض جیسا کر دیں گے۔ہرگز نہیں مفسدین فی الارض صرف وہی لوگ نہیں ہوتے جو دنیا میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں بلکہ کفار بھی مفسد فی الارض ہی ہوتے ہیں۔کیونکہ ان کے عقا ئد درست نہیں ہوتے اور جب عقائد درست نہیں ہوتے تو ان سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ بھی درست نہیں ہوتے بلکہ بُرے اور خطرناک ہوتے ہیں خواہ ایسے لوگ کتنا ہی اچھا کام کریں۔تو بھی عقائد کے نقص کی وجہ سے اس میں نقص ہی رہے گا اس لئے وہ مومنوں کے برابر نہیں ہو سکتے۔دوسرے وہ لوگ جو زبان سے تو ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں لیکن عملاً اس کا ثبوت نہیں دیتے وہ متقیوں یعنی ایمان لا کر عملی