خطبات محمود (جلد 5) — Page 85
خطبات محمود جلد (5) ۸۵ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح آئے تھے اور آپ کا بدترین دشمن بھی اسی طرح آیا تھا مگر آپ نے تو ایسی ترقی کی کہ معراج کے وقت جبرائیل بھی پیچھے کھڑا رہا اور آپ سے کہا کہ آپ آگے چلے جائیں مجھ میں آگے جانے کی طاقت نہیں ہے۔تو فرداً فرداً بھی انسانوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔انسانوں میں بڑی بڑی ترقیات کے مادے رکھے گئے ہیں اس لئے کوئی انسان ہر وقت ایک حالت پر قائم نہیں رہتا۔اور نہ رہ سکتا ہے اور نہ کوئی قوم رہتی ہے اور نہ رہ سکتی ہے۔وہ حالت جس کا نام کسی قوم کا ایک حالت میں ٹھہر نارکھا جاتا ہے وہ اصل میں ٹھہر نا نہیں ہوتا بلکہ گرنا ہوتا ہے یعنی اس وقت اس قوم کا گرنا شروع ہو جاتا ہے۔کیونکہ انسان ہر وقت ترقی یا تنزل کرتا رہتا ہے کبھی نیچے کو آتا ہے تو کبھی اوپر کو جاتا ہے۔یعنی ہر وقت حرکت میں رہتا ہے جب انسان خدا تعالیٰ کی عطا کردہ طاقتوں سے کام لینا چھوڑ دیتا ہے تو نیچے گرنا شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح ایک شخص رستہ کو پکڑ کر اوپر چڑھ رہا ہو وہ جب اپنی طاقت کو کم کرے گا تو نیچے کو آنا شروع ہو جائے گا یہی حال انسانی ترقی کا ہوتا ہے۔۔غرض انسان اور دوسری تمام مخلوق میں یہ فرق ہے کہ انسان اپنے اندر ترقی کی اس قدر طاقتیں رکھتا ہے کہ جن کا انداز بھی نہیں ہو سکتا۔جو شخص کہتا ہے کہ میں نے انسانی ترقی کا پورا پورا اندازہ کر لیا ہے وہ جھوٹا ہے اور خدا نے اس کے جھوٹ کو اس طرح ثابت کر دیا ہے کہ ایک وقت میں جن باتوں کو انسان اپنی انتہائی ترقی سمجھتے ہیں دوسرا وقت اس سے بڑھ کر ترقی دیکھا دیتا ہے تمام دنیا میں ایک ہی ایسا انسان ہؤا ہے جس کی نسبت کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے تمام انسانی ترقی کے مدارج حاصل کر لئے ہیں اور وہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر یہ بھی جھوٹ ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو آج سے تیرہ سو سال پہلے تھے وہ آج نہیں ہیں بلکہ بہت بڑھ گئے اور ہر وقت بڑھتے رہتے ہیں۔کیونکہ کروڑوں انسان دن رات آپ کے لئے مل کر صلی اللہ علیہ وسلم کہنے والے ہیں۔پھر جس قدر نیکی دنیا کو آپ سے پہنچ رہی ہے وہ کیا آپ کو ایک درجہ پر رہنے دیتی ہے ہرگز نہیں۔بلکہ آپ اوپر ہی اوپر جارہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لئے رَبّ زِدْنِي علما ( طه : ۱۱۵) کہنے کا حکم ہوا تھا۔آپ کی وفات کے وقت جو آپ کا درجہ تھا وہ اس سے دس منٹ پہلے سے زیادہ تھا۔اور ہمیشہ زیادہ ہی زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔یہ تو انسان کی حالت ہوئی۔اس کے مقابلہ میں باقی جس