خطبات محمود (جلد 5) — Page 76
خطبات محمود جلد (5) 24 بحث و مباحثے شروع ہو گئے ہیں گویا انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ ہمارے دشمن نہیں رہے اور ہم آرام میں ہو گئے ہیں لیکن یہ غلط ہے ہمارے تو وہ تمام لوگ دشمن ہیں جو دنیا کے کسی گوشہ میں بستے ہیں اور حق وصداقت کے مخالف ہیں اور ہر ایک احمدی کے وہ سب دشمن ہیں جو شیطان کے پیچھے چلتے ہیں۔پس جب تک شیطان دنیا سے نہیں مٹ جاتا اس وقت تک احمدیوں کو بھی ہتھیار نہیں اتارنے چاہئیں۔پس تم لوگ اللہ اور رسول کے فیصلہ پر چلو۔اور وہ باتیں جو اصول دین سے تعلق نہیں رکھتیں اور مختلف صحابہ نے ان پر مختلف طریق سے عمل کیا ہے ان میں سے جس طریق پر کوئی عمل کرتا ہے اچھا کرتا ہے کوئی گناہ کی بات نہیں سب انسانوں کی طبیعت ایک جیسی نہیں ہوتی کسی کے لئے کوئی بات پسندیدہ ہے اور کسی کے کوئی۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سب طریقوں کو جو پہلے مختلف مذاہب میں مروج تھے ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔تاکہ کسی کی طبیعت گھبرائے نہیں پس جب خدا تعالیٰ نے طبائع کا اتنالحاظ رکھا ہے تو بندوں کا کیا مقدور ہے کہ ایسے مسائل میں اختلاف کریں۔خدا کے فضل سے یہاں کے لوگ ایسی باتوں سے بچے ہوئے ہیں لیکن بیرونجات سے ایسے جھگڑوں کے متعلق خطوط آتے رہتے ہیں۔میرے نزدیک اس کے متعلق یہ تجویز ہونی چاہئیے کہ جو شخص ایسا ہو اس کی طرف توجہ ہی نہ کی جائے کیونکہ ایسی باتوں کا اعمال سے کوئی تعلق نہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اس بات کی سمجھ دے کہ کس قدر خطرناک دشمن کے ساتھ ان کا مقابلہ ہے تا کہ وہ ایسے جھگڑوں سے باز آ جائیں۔جو شخص ایسی حالت میں جھگڑا کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنے دشمن کی خبر ہی نہیں۔کیا ممکن ہے کہ شیر سامنے کھڑا ہو اور کسی کو نیند آ جائے لیکن جس کے سر پر شیر کھڑا ہے اور وہ سوتا ہے تو معلوم ہو ا کہ اس کو شیر کا علم ہی نہیں۔اسی طرح جو شخص فتنہ برپا کرتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے دیکھا ہی نہیں کہ کتنے بڑے دشمن سے اس کا مقابلہ ہے جس شخص نے پچاس ساٹھ میں جانا ہو وہ کبھی بے فکر ہو کر راستہ میں سونہیں سکتا۔اسی طرح وہ شخص جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو کر ایسا کرتا ہے گویا اس نے اپنے فرض کو سمجھا ہی نہیں۔ہر ایک احمدی کو یا درکھنا چاہئیے کہ جس وقت تک کوئی ایک شخص بھی دنیا پر ایسا موجود ہو گا جو حق کو نہیں مانے گا اس وقت تک اس کا مقابلہ ختم نہیں ہوگا۔ادھر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب تک دشمن سے مقابلہ ہو۔اس