خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 75

خطبات محمود جلد (5) ۷۵ گیا۔اور کہا کہ جس کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اسے کوئی اور کیوں کرے اس کے بعد جب عباسی حکومت کا دور آیا تو ایک بادشاہ نے امام سے پوچھا کہ کیا اس زمین کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس نے کہا کہ اصل کعبہ تو اتناہی ہے جتنی جگہ پر نشان لگے ہوئے ہیں مگر اس کو بچوں کا کھیل نہ بناؤ اسی طرح رہنے دو جس طرح بنا ہوا ہے۔اگر تم نے اس کو شامل کر لیا تو کوئی اور آئے گا جو اس کو گرا دے گا۔یہ احتیاط تھی۔جو کعبہ کے متعلق کی گئی۔آمین کا مسئلہ اس کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔تو اس قسم کے اختلاف کرنے والے سوئے ہوئے فتنہ کو جگانے والے ہوتے ہیں۔آمین اونچی آواز سے کہنا یا نچی سے۔رفع یدین کرنا یا نہ کرنا۔انگلی اٹھانا یا نہ اٹھانا۔ان سب باتوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فیصلے کر دیئے ہیں جو شخص آپ کو مسیح موعود مانتا ہے وہ آپ کے فیصلوں کو قبول کرے گا۔اور جو فیصلوں کو قبول نہیں کرتا وہ جھوٹ بولتا ہے کہ میں آپ کو مانتا ہوں۔ہماری جماعت کو بہت محتاط ہونا چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثین کی بہت قدر کی ہے۔آپ نے بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری قرار دیا ہے۔اے جو شخص امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ہتک کرتا ہے۔وہ تو بہ کرے کیونکہ یہ بہت برا کام ہے۔امام بخاری نے جو کچھ لکھا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لکھا ہے ان کا اپنا اجتہاد اس میں شامل نہیں ہے اس لئے جو شخص ان کی احادیث کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی ہتک کرتا ہے کیونکہ وہ حدیثیں آپ کی زبان سے نکلی ہوئی ہیں اور خشک حدیثیں نہیں ہیں جو شخص ان احادیث کو مانتا ہے وہ امام بخاری کو نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے پس ہر ایک کو چاہیے کہ احتیاط سے کام لے۔جب کسی قوم میں امن و امان آجاتا ہے تو ایسی ایسی باتیں بھی پیدا ہو جاتی ہیں کیا جب احمدیوں کی چھوٹی چھوٹی جماعتیں مختلف جگہوں میں رہتی تھیں اپنی مسجدیں نہ تھیں مخالفین تنگ کرتے در تکلیفیں پہنچاتے تھے اس وقت بھی ایسی باتیں یاد آتی تھیں ہرگز نہیں۔لیکن اب ایسی ایسی باتوں پر لے براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ۳۷۸ اور