خطبات محمود (جلد 5) — Page 71
خطبات محمود جلد (5) اے اور کہتے کہ کتا بھونکتا ہے۔حالانکہ انہوں نے نہ دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آمین بالجہر فرمایا کرتے تھے۔اے پھر بعض جگہ اگر کسی نے آمین دل میں ہی کہی تو کہدیا کہ مردے قبروں میں پڑے ہیں۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے اور صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے۔غرض بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر اختلاف اور جھگڑے شروع ہو جاتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان باتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دُور کیا۔ہماری مساجد میں حضرت مسیح موعود کے وقت اور اب بھی ایک ہی صف میں ایسے آدمی ہوتے ہیں جن میں سے کوئی آمین بالجبر کہتا ہے اور کوئی دل میں کوئی رفع یدین کرتا ہے اور کوئی نہیں۔اسی طرح گو کم رہ گئے ہیں تاہم ابھی تک ایسے بھی لوگ ہیں جو ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں لیکن کوئی کسی پر اعتراض نہیں کرتا۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جن پر جھگڑا کیا جائے۔اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ سوئے ہوئے فتنہ کو جگاتا ہے۔میں نے یہ جو آیتیں پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو اسی طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ باتیں جو اصول دین سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود جماعت میں اختلاف کا باعث ہوں ان پر جھگڑنا نہیں چاہئیے۔فرمایا۔يَا يُهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواط إنَّ اللهَ مَعَ الصبرین۔اے مومنو! ایک وقت تم پر ایسا آتا ہے جبکہ تم دشمن کے مقابلہ پر کھڑے ہوتے ہو۔اس وقت تمھیں چاہئے کہ تمہاری ساری توجہ دشمن کے مقابلہ میں جم کر کھڑے رہنے کی طرف ہو اور خدا کے حضور بہت دعاؤں میں لگے رہو ( ذکر کے معنے تسبیح و تمجید بھی ہیں اور یاد کرنے سے مراد پکارنا بھی ہوتا ہے جیسے کہ اردو میں بھی محاورہ ہے ) اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم کامیاب۔مظفر و منصور ہو جاؤ گے اور یہ بھی یادرکھنا کہ ایسے وقت میں خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا۔اور آپس میں کسی قسم کا جھگڑ انہیں کرنا۔یہاں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ ہی یہ حکم دیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جھگڑا مذہبی معاملات ل ترمذی ابواب الصلاة باب ما جاء فِي الثَّامِين