خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 612

خطبات محمود جلد (5) ۶۱۱ اور کئی کام ہیں۔ان تمام کاموں کو سیکھنے سے انکی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کا کام چلے یا نہ چلے۔لیکن کوئی خیال انکو روک نہ سکے، یہ ہونا چاہیے کہ مثلا کوئی شخص ہے اپنی زندگی وقف کر چکا ہے۔اس کو کسی ایسی جگہ بھیجا ہوا ہے جہاں اس کی طب وغیرہ چل نکلی ہے۔اس حالت میں اس کو حکم ملتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ دو اور فلاں جگہ چلے جاؤ۔اسے فوراً تیار ہو جانا چاہیئے۔تو خواہ زندگی وقف کرنے والے کا کسی جگہ کتنا ہی کام کیوں نہ پھیلا ہوا ہو۔جب اسکو حکم ملے کہ فلاں جگہ جاؤ۔تو اس کو فوراً اس کام سے دست بردار ہونا پڑے گا۔کیونکہ یہ کام اس نے اپنے منافع کے لئے شروع نہیں کیا تھا۔بلکہ دین کی خاطر شروع کیا تھا۔اور اب دین کی ضروریات اس کو وہاں سے ہٹا کر کہیں اور لے جانا چاہتی ہیں۔اس لئے اس کو تامل نہیں ہونا چاہیے اسی طرح ڈاکٹری۔نجاری معلمی ہے۔غرض مختلف پیشہ ہیں جو ہر جگہ کام دے سکتے ہیں اگر اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے تو ہم کبھی ساری دنیا میں تبلیغ نہیں کر سکتے۔عیسائی با وجود کروڑ ہا روپیہ خرچ کرنے کے ساری دنیا کی تبلیغ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکے۔تو ہم کیسے لے سکتے ہیں۔عیسائیوں میں بھی اس طریق پر عمل کیا جاتا ہے اور اُن میں بہت سے لوگوں نے ہسپتال اور مدرسہ وغیرہ کھول رکھے ہیں۔وہ اپنا خرچ خود اٹھانے کے علاوہ اپنی تمام آمدنی بھی مشن میں خرچ کرتے ہیں۔لیکن ان کی تعداد کے لحاظ سے ایسے لوگ بہت کم ہیں۔میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس میں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لئے جوش رکھنے والے بڑھیں۔اور اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔جوابھی تعلیم میں ہیں۔اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کو پسند کرتے ہیں۔تا ان کیلئے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔وہ بھی مشورہ کر سکتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ جوش میں آکر اس وقت عہد کر لیں گے۔اور اپنی زندگیاں وقف کر دیں گے۔مگر وہ نبھا نہیں سکیں گے۔اس لئے جہاں میں یہ کہتا ہوں