خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 591

خطبات محمود جلد (5) ۵۹۰ پس صرف ونحو کے مسائل اتنے سیکھ لو جتنے دین کے لئے ضروری ہیں۔باقی وہ سیکھیں جنہیں زبان عرب میں کمال حاصل کرنا ہو۔کیونکہ دین سے اس کا چنداں تعلق نہیں۔بعض لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کو جب کہا جاتا ہے تبلیغ کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ علم نہیں۔یہ تو مولویوں کا کام ہے۔یہ ان کا کہنا درست نہیں کیونکہ سارے علوم اور تو اور نبی بھی نہیں جانتے۔زراعت کے متعلق ایک دفعہ نبی کریم سے پوچھا گیا۔آپ نے رائے دی۔اس سے فصل اچھی نہ آئی۔عرض کیا گیا فرمایا انتم اعلم بأمور دنیا کم۔میں اس علم کو نہیں جانتا۔تم خود ہی اس کو خوب جانتے ہو۔سارے مسائل نہیں آتے تو کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور آتا ہی ہو گا مثلاً وفات مسیح کا ہوگا یا آمد مسیح کا۔یا راستبازوں کے معیاروں کا۔یا نبوت کا یہ غلط ہے کہ کوئی بھی مسئلہ نہ آتا ہو۔جو آتا ہے اس کی تبلیغ کرے۔اسکو کون کہتا ہے کہ وہ سارے مسائل کی تبلیغ کرے۔لیکن یہ قصور کس کا ہے کہ اس کو دینی مسائل سے واقفیت نہیں۔اسکا فرض تھا کہ وہ سیکھتا۔یہ کوئی جواب نہیں کہ مجھ کو نہیں آتا۔ماں کے پیٹ سے کون سیکھ کے آتا ہے۔علوم سیکھنے سے ہی آتے ہیں۔وضوء کا مسئلہ ہے۔یہ نہیں کہ وضو کیا کرایا پیدا ہو۔بلکہ انسان سیکھتا ہے تو آتا ہے۔وضو کا حکم نماز میں ہی داخل ہے۔جو نماز پڑھتا ہے اسکو وضو کا علم ہونا چاہیئے۔اب اس پر فرض ہے کہ دوسروں کو سکھائے۔ہر ایک کا فرض ہے کہ جو اس کو آتا ہو دوسروں کو سمجھائے۔اگر ان مسائل میں شک پڑے جن کا اسے علم نہیں تو اسکی ہتک نہیں۔اگر کہہ دے کہ مجھ کو ان مسائل میں واقفیت نہیں۔اس کہنے سے خدا کے حضور گناہ کا مرتکب نہیں ہوگا۔غرض اس زمانہ میں تبلیغ فرض ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ اس فرض کو پورا کریں۔جس کا طریق ایک یہ ہے کہ پہلے علم ہونا چاہیئے۔دلائل خوب یا د ہوں۔تا کہ دشمن پر حجت کریں۔میں نے بتایا تھا کہ دو باتیں تبلیغ کے لئے ضروری ہیں۔آج صرف پہلی بیان ہوئی ہے۔دوسری انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔الفضل ۷ ارنومبر ۱۹۱۷ء) : صحیح مسلم کتاب الفضائل باب وجوب انتشال ما قاله صلعم شرعا۔