خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 582

خطبات محمود جلد (5) ۵۸۱ خواہ وہ غیر احمد یوں کے ہوں۔یا غیر مبائعین کے۔یا عیسائیوں کے۔یا آریوں کے غرض کسی طرف سے ہوں۔ان کا جواب دیا جائے۔اور ان پر اعتراض کئے جائیں۔تا کہ دشمن کو حملہ کا پہلو چھوڑ کر دفاع کا طریق اختیار کرنا پڑے۔اور حملہ شرافت سے بھی ہو سکتا ہے۔اب تک تو کسی حد تک دفاع کا پہلو رہا ہے۔لیکن اب حملہ کرنا چاہیئے۔ان حملوں میں انسانیت کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔دیکھو فتح مکہ دفاع نہیں تھا۔حملہ تھا۔عربوں نے جب کئی دفعہ حملہ کیا اور مسلمانوں کی طرف سے دفاع کیا گیا تو رسول کریم نے غزوہ احزاب میں فرمایا کہ اب تک تو دشمن ہم پر حملہ کر رہے ہیں لیکن ہم اب انہیں حملہ کا موقعہ نہیں دیں گے۔اور خودان پر حملہ کریں گے ا۔چنانچہ چند ہی سالوں میں مخالفین کی جمیعت منتشر اور پراگندہ ہو کر ضائع ہو گئی۔ہجرت کے تیرہ سال میں آٹھ سال مسلمانوں نے دفاع کیا۔ان میں اتنی کامیابی نہیں ہوئی جتنی ساڑھے پانچ سال میں جن میں حملہ کیا گیا۔حملہ کے ساتھ شرط نہیں کہ ظالمانہ ہو۔اور دوسروں کے بڑوں کو گالیاں دی جائیں۔یا جن کے مذہب کا ذکر بُرے الفاظ میں کیا جائے۔ان کے بزرگوں کو جھوٹے اور مکار کہیں۔ہاں انکے مذہب کے کمزور پہلوؤں کو بیان کریں اور ان پر اعتراض کریں تا کہ ان کو بھی کچھ فکر پڑے۔جو ان کا اعتراض ہواس کا بھی جواب دیا جائے۔مگر اپنی طرف سے ان پر اعتراض ہوں۔قانون کے اندر رہ کر انکی تردید ہو۔جب یہ حالت ہوگی تو ان کو بھی اپنی فکر پڑ جائے گی۔پس وہ سب لوگ جو لکھ سکتے ہیں اخبار میں مضامین لکھیں۔اشتہار شائع کریں۔ٹریکٹ لکھیں۔پہلے جو کوتا ہی ہو چکی ہے۔ہو چکی ہے۔اب کو تا ہی کا وقت نہیں ہے۔پہلے ان کے اعتراضات کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔اور جب تک ہماری طرف سے خاموشی رہی ان کے حملے بڑھتے گئے اب وقت ہے کہ ہم ان کے حملوں کا رڈ کر کے ان پر حملہ کر سکتے ہیں۔ورنہ ہم ان کے اعتراضات کے نیچے دب جائیں گے۔حضرت مسیح موعود کے وقت تمام لوگ کام میں لگے رہتے تھے۔پرانے بدر اور الحکم کے فائل اُٹھا کر دیکھ لو تمہیں معلوم ہو جائے :- بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خندق وھی الاحزاب۔