خطبات محمود (جلد 5) — Page 570
خطبات محمود جلد (5) اپنی متفقہ قوت سے مٹا دینا چاہتی ہے۔۵۶۹ دوسرے لوگوں کے لئے سامان ہوتے ہیں۔انہیں ان سامانوں کو بہم پہنچانا اور صرف ان سے کام لینے کیلئے محنت کرنا ہوتی ہے۔مگر ان لوگوں کیلئے سامان کی فراہمی کے ساتھ اپنی مخالف طاقتوں کا مقابلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔سامان تو بہر حال ہو سکتے ہیں۔مگر مخالف طاقتوں کو پچھاڑ کر آگے نکلنا یہ ان کی کامیابی میں بڑی بات ہوتی ہے۔کیونکہ سامان مخالفین کے پاس بھی ہوتے ہیں۔اور پھر وہ اس شخص کو شکست دیکر فنا کر دینے کے درپے ہوتے ہیں۔نادان خیال کرتا ہے کہ اللہ کے نبی اور مشکلات۔احمق سمجھتا ہے کہ خدا کے برگزیدہ اور تکالیف۔کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ ہماری یہ حالت ہے کہ جس شخص سے ہمیں محبت ہوتی ہے اسکو کبھی تکلیف دینا نہیں چاہتے بلکہ اگر تکلیف کا خیال بھی ہو تو فوراً اس کے دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا کے نبی۔خدا کے برگزیدہ اور خدا کے پیارے تکالیف اور رنج ومحن سے گزارے جائیں۔اور خدا ان کی تکالیف کو دور نہ کرے۔کیا کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے کسی عزیز کو ماریں اور مار کر پیار کریں یا زہر دیں اور پھر زہر دے کر ڈاکٹر کو بلائیں کہ یہ ہمارا بہت پیارا ہے۔ہرگز نہیں۔پھر کیا یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے بھوکا رہنے دیں۔اور پھر کہیں کہ یہ ہمارا دوست ہے۔اس کو کھا نا کھلائیں۔پس جب ہم اپنے کسی عزیز کو تکلیف دے کر پیار نہیں کرتے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا کے پیارے طرح طرح کی تکلیف اٹھا ئیں۔اور خدا انہیں تکالیف میں ڈال کر پھر انعام دے۔اگر کوئی خدا ہے تو اسے اپنے پیارے بندوں کو تکالیف سے بچانا چاہیئے۔نہ یہ کہ پہلے وہ تکالیف اٹھائیں اور پھر انعام پائیں۔اگر ایسا نہیں تو خدا کی خدائی میں شک کی گنجائش ہے۔کیونکہ ایسا نہ کرنے سے خدا کو اپنے پیاروں کی مدد کرنے کی قدرت سے خالی ماننا پڑے گا۔اور جب قدرت سے خالی ہوا تو خدا خدا نہیں ہوسکتا۔لیکن نادان نہیں جانتا کہ اللہ کے پیارے جو دنیا کی اصلاح کے لئے آیا کرتے ہیں