خطبات محمود (جلد 5) — Page 47
خطبات محمود جلد (5) ۴۷ ہماری جماعت پر تو خدا کا بڑا ہی فضل اور کرم ہے۔زید اور بکر کوٹھوکر لگ سکتی ہے۔مگر ہماری جماعت کو نہیں لگ سکتی کیونکہ اُن کے لئے کوئی حکم نہیں ہے مگر ہمارے لئے حضرت مسیح موعود حکم ہیں اور حضرت مسیح موعود خدا تعالیٰ کے کلام کے مطابق فیصلہ کرنے والے ہیں کیونکہ خدا ہی نے انہیں حکم قرار دیا ہے اور پھر سب کا مطاع ٹھہرایا ہے۔آپ کے سوا اور کون ہے جس کی نسبت حکم اور عدل کہا گیا ہو۔اور جس کی نسبت خدا نے کہا ہو کہ اس کے فیصلے صحیح اور درست ہیں۔پھر آپ کے سوا اور کون ہے جس نے دعویٰ کیا ہو کہ میں اس گروہ میں سے ہوں جس کو خدا تعالیٰ مرنے تک کسی اجتہادی غلطی پر نہیں رہنے دیتا۔اور پھر آپ کے سوا اور کون ہے جس کی نصرت اور تائید خدا تعالیٰ نے کی۔اور جس کی صداقت کو ظاہر کر دیا۔کوئی نہیں۔پس جب ایسا انسان ایک ہی ہے اور وہ ایک حضرت مسیح موعود ہے تو ہم اس کے ہوتے ہوئے اور کسی کی بات کو کیوں مانیں۔اس بات کو یادرکھو اور خوب یادرکھو کہ تم ہر ایک بات میں حضرت مسیح موعود کا فیصلہ مانو۔جو اس لئے آیا تھا کہ اختلافات کو مٹا دے اور تمام اختلافی باتوں کا فیصلہ کر دے۔اور یہ وہ عظیم الشان انسان ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن میں خبر دی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے پہلے تمام نبیوں نے خبردی ہے۔پس یہی وہ انسان ہے جس کا ہر ایک فیصلہ بلا چون و چرا کے مان لینا چاہئیے۔کیونکہ اگر وہ سچا ہے اور واقعی سچا ہے تو اس کا ہر ایک فیصلہ اور ہر ایک بات سچی ہے اور جب ہر ایک بات سچی ہے تو اس کے ماننے میں کیا انکار ہوسکتا ہے۔پس اگر ہمارے اس سلسلہ میں داخل ہونے کی اور اس بوجھ کو اپنے سر پر لینے کی یہ غرض ہے کہ ہمیں ایمان حاصل ہو جائے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ خدا کے رسول کی اطاعت کا جو اپنی گردنوں پر رکھو۔اور اگر یہ نہیں بلکہ تم زید و بکر کی باتوں کو ماننے والے ہو اور ان کے پیچھے چلنے والے ہو تو تمھیں سوائے ضلالت اور ہلاکت کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔جسے اپنے ایمان کی ضرورت ہے اور جو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اپنے تصور میں اس بات کو لائے کہ کیا جبکہ وہ خدا تعالیٰ کے حکم کو رد کرتا ہے تو کامیاب ہو سکے گا۔ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ نے تمام عقائد کی بنیاد حضرت