خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 549

خطبات محمود جلد (5) ۵۴۸ معمولی نظر آتی ہیں مگر حقیقت میں انہی سے بعد میں بڑے بڑے خطرناک نتائج پیدا ہوتے ہیں۔مرض کی ابتدا ہو۔یا مرض کا خطرہ ہو۔اسی وقت اسکا علاج زیادہ سود مند ہوتا ہے لیکن جب مرض ترقی کر جائے پھر علاج مشکل اور اکثر اوقات ناممکن ہو جایا کرتا ہے۔غافل انسان بات کرتا ہوا نہیں سوچتا مگر اسکی بات خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہے۔خوب یاد رکھو کہ ہمیشہ فتنہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی ترقی کیا کرتا ہے۔فرما يا يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ اے مسلمانو! جب ہم اتفاق و اتحاد پیدا کر دیں پھر تم اس کو توڑنے سے پرہیز کرو۔خدا نے قرآن اور نبی اور انکے خلفاء کے ذریعہ اتفاق پیدا کیا ہے۔اسکے توڑنے والے کو ڈرنا چاہئیے کیونکہ جو بات انسان خود پیدا کرتا ہے اس کو تو دوبارہ بنا سکتا ہے لیکن جو بات انسان کے اختیار میں نہ ہو۔اس کا ضائع کرنا عقلمندی نہیں۔کوئی شخص نہیں جو اپنی آنکھ پھوڑ لے۔اور کوئی نہیں جو اپنے کان اور اپنی ناک کو کاٹ ڈالے۔کیوں نہیں اس لئے کہ انسان کو ان چیزوں کے بنانے پر دسترس نہیں۔اذ كنتم اعداء فالف بين قلوبكم فاصبحتم بنعمته اخوانا۔یاد کرو کہ ایک وقت تھا کہ تم آپس میں دشمن تھے۔خدا نے تم میں صلح پیدا کر دی۔اب اگر تم اس خدا کی پیدا کی ہوئی صلح کو توڑ ڈالو گے تو پھر اسکو جوڑ نہیں سکو گے۔پس میں احمدی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پہلوں کے حالات سے نصیحت پکڑیں۔پہلے مفسد ہوئے اب بھی ہوں گے اور یادرکھو کہ فتنہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی پیدا ہوا کرتا ہے۔نتیجہ میں پہلوں کے حالات کو سامنے رکھ لو۔اگر فتنہ کی راہوں سے بچنے کی کوشش نہیں کرو گے تو خوب یا درکھو کہ ان لوگوں کا نتیجہ کیا ہوا تھا۔جو ان کا انجام ہوا وہی تمہارا ہو گا یعنی جماعت کی تباہی اور ہلاکت۔ہمیشہ احتیاط کرو کہ کہیں فتنہ کا موجب نہ بن جاؤ۔جماعت میں تفرقہ اندازی سے بڑھ کر ہلاکت کی راہ کوئی نہیں۔جو رستہ پہلے خطرناک ثابت ہوا ہو۔کوئی دانا اس رستہ پر نہیں چلتا۔کیا کوئی شخص ہے جو گلے پر چھری پھیر لیتا ہو۔ہرگز نہیں۔کیوں نہیں اس لئے کہ جانتا ہے کہ چھری پھیرنے سے گلا کٹ جائے گا۔کوئی نہیں جو سانپ کے