خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 514

۵۱۳ 67 خطبات محمود جلد (5) اکثر چھوٹی باتیں بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں (فرموده ۲۰ جولائی ۱۹۱۷ء) حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔يبَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطنُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَواتِهِمَا ، إِنَّهُ يَرَكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيْطِيْنَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (الاعراف: ۲۸) بعد ازاں فرمایا:- دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ بظاہر چھوٹی نظر آتی ہیں۔لیکن وہ ایک بیج کی طرح ہوتی ہیں جن سے ایک بہت بڑا درخت پیدا ہوتا ہے۔بڑ کے بیچ سے کوئی نا واقف کیا قیاس کر سکتا ہے کہ اتنے چھوٹے بیج سے اتنا بڑا درخت پیدا ہو جائے گا۔پھر بعض درختوں کی شاخ زمین میں گاڑ دی جاتی ہے جس کو ایک بچہ بھی مل سکتا ہے۔مگر ایک وقت آتا ہے کہ وہی کمزور شاخ اس قدر مضبوط ہو جاتی ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اس کو جنبش نہیں دے سکتا۔مگر بہت کم لوگ کسی چیز کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ اسکے نتائج کیا نکلیں گے۔ایک آم کی گٹھلی کتنی چھوٹی ہوتی ہے جس کو نا واقف دیکھ کر کہے گا کہ اس سے اتنا بڑا درخت کیسے پیدا ہوسکتا ہے جو اس سے ہوتا ہے اور وہ حیران ہو جائے گا لیکن عقلمند انسان کا کام ہے کسی چیز یا واقعہ کو اس کی موجودہ شکل میں نہ دیکھے بلکہ اسے یہ دیکھنا چاہیئے کہ زمانہ کے گزرنے پر اس کی کیا صورت ہو جائے گی۔اور اگر واقعات کو انکی موجودہ صورت میں دیکھا جائے تو دنیا میں ایک تباہی آجائے۔کیونکہ بہت سے