خطبات محمود (جلد 5) — Page 42
خطبات محمود جلد (5) ۴۲ غرض عبادت کے ذرائع اور اس کے فوائد پر غور نہیں کیا۔جس طرح ماں باپ کو کرتے دیکھا اسی طرح کرنے لگ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے اپنے مذہب کی تحقیق اور تنقید کی طرف توجہ نہ رہی۔لیکن جب کسی کے پیش نظر عبادت کا مقصد اور اس کے ذرائع کا حاصل کرنا ہوگا تو وہ ضرور مذاہب کی تحقیق کی کوشش اور سعی کریگا۔مثلاً ایک شخص نیت کرتا ہے کہ میں بٹالہ جاؤں گا۔اب فرض کرو کہ وہ یہاں سے مشرق کی طرف چل پڑا اور سری گوبند پور پہنچ گیا۔وہاں جا کر جب وہ پوچھے گا کہ اس شہر کا کیا نام ہے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ یہ توسری گو بند پور ہے اور مجھے بٹالہ جانا ہے۔مجھے اس طرف نہیں آنا چاہیئے تھا۔پھر وہ اور طرف چلے گا اور اگر اسے دس گیارہ میل چل کر کوئی شہر دکھائی نہ دے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ میں غلط راستہ پر چل رہا ہوں۔کیونکہ قادیان سے بٹالہ اتنی ہی دور ہے۔لیکن اب تک نہیں آیا۔اس لئے پتہ لگا کہ میں کسی اور راستہ پر پڑ گیا ہوں اب پھر وہ اور طرف چلے گا اور خواہ اسے کتنے ہی چکر کاٹنے پڑیں تاہم وہ بٹالہ پہنچ جائے گا کیونکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ بٹالہ پہنچے۔لیکن جس کی کوئی نیت اور ارادہ ہی نہ ہو کہ مجھے کہاں پہنچنا ہے اس کی مثال اسی طرح کی ہے کہ ایک انسان گھر سے نکل کر اندھا دھند جدھر منہ کیا۔ادھر ہی چل پڑا۔یہ اگر پچاس سو میل بھی چلتا جائے تو بھی اسے کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوگا کہ میں غلط راستہ پر چل رہا ہوں۔اگر وہ جنگلوں اور وحشی جانوروں کی طرف جا رہا ہے تو اسے خیال نہیں اور اگر شہروں اور باغوں کی طرف جا رہا ہے تو اسے توجہ نہیں کیوں اس لئے کہ اس نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ میں کہاں جا رہا ہوں۔اور کیوں جا رہا ہوں اور مجھے کس طرف جانا چاہئے لیکن جب انسان اس بات پر غور کرے کہ میرا کیا مدعا کیا مقصد اور کیا غرض ہے اور اس کے حاصل کرنے کے لئے کیا ذرائع اور کیا سامان ہیں تو وہ اگر غلطی بھی کرے۔تو جلدی متنبہ ہو جاتا ہے اور اصلاح کی طرف لوٹ آتا ہے۔میں نے جو یہ آیت پڑھی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے اپنے قرب کے حاصل ہونے اور اپنے پاس کسی بندہ کے درجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بتایا ہے۔فرمایا۔لوگ اس بات کی بہت خواہش کرتے ہیں کہ خدا کا قرب حاصل ہو جائے ایمان نصیب ہو جائے ( ایمان ان عقائد کا نام ہے جن کے تسلیم کرنے سے انسان خدا تعالیٰ کی حفاظت