خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 481

خطبات محمود جلد (5) ۴۸۰ کی طرف سے کتاب دی گئی ہے اسکو بھی کوئی نہیں بدل سکتا۔اور اسی طرح اس کی نبوت بھی قیامت تک ختم نہیں ہوسکتی بلکہ آپ کے ذریعہ نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور ایک ایسا شخص جو خدا کے علم میں اس کا کامل متبع ہو اس کو بھی اس کی اتباع سے نبوت مل سکتی ہے۔ان مثالوں کے بیان کرنے یعنی پہلے انبیاء کے بھیجنے میں خدا وند کریم کی ایک بہت بڑی حکمت یہ تھی کہ تمام دنیا کے لئے ایک ایسا موعود بھیجا جائے جس کو پہلے انبیاء کے نام دئے جائیں۔اور ان سے پہلے انبیاء کے ماننے والوں کو اسکے قبول کرنے میں آسانی ہو۔کیونکہ انسان کے دل میں جن لوگوں کی عزت ہوتی ہے۔اگر وہی لوگ آئیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔لیکن انکی بجائے خواہ ان سے بڑا بھی آ جائے تب بھی چنداں التفات نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی دوسرے نبی کو حاصل نہیں۔اگر مسیح موعود علیہ السلام کو یہ درجہ حاصل ہوا تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے ہی حاصل ہوا ہے۔مگر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گزشتہ انبیاء کے نام نہیں دئے گئے تھے۔اس لئے لوگ مسیح وغیرہ کے تو منتظر رہے اور اب بھی ہیں۔مگر آپ کے منتظر نہیں۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء کے موعود ہیں۔جیسا کہ گزشتہ مذہبی کتب سے ظاہر ہے۔مگر ہندوؤں میں جس طرح حضرت کرشن کی دوبارہ آمد کا انتظار کیا جاتا ہے۔اس طرح اس عظیم الشان نبی کا نہیں کیا گیا۔پھر عیسائی صاحبان جس طرح مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں تھے۔تو باوجود اس کے کہ آنحضرت درجہ اور شان کے لحاظ سے تمام انبیاء کے سردار ہیں مگر لوگ آپ کے اس اضطرار سے منتظر نہیں تھے۔جس طرح ان کو خیال ہے کہ مسیح آئے۔کیوں؟ اس لئے کہ مسیحیوں کو حضرت مسیح کے نام سے اور ہندوؤں کو کرشن کے نام سے، اور بُدھ ازم والوں کو بُدھ کے نام سے جو محبت اور انس ہے وہ آپ سے نہیں۔کیونکہ مسیحی لوگ حضرت مسیح پر جان دینے کو تیار ہیں۔بدھ لوگ بُدھ کے نام پر مر مٹنے پر آمادہ ہیں