خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 429

خطبات محمود جلد (5) ۴۲۸ میں گڑھے پڑ جائیں گے یہ الہام اس وقت چھاپ کر شائع کر دیئے گئے۔اور اس وقت کتابوں میں موجود ہیں۔اب تم امریکہ سے میرے ملنے کے لئے آئے ہو۔کیا یہ میری صداقت کی دلیل نہیں ہے لے۔یہ ن کر وہ خاموش رہ گیا۔یوں تو دعوی کرنے والے کئی اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔یہاں بھی حضرت مسیح موعود گود یکھ کر ایک شخص نے دعوی کیا تھا۔لیکن اس کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔اور نہ ہی کوئی اس کے دعوے کو سن کر اس کے پاس آیا بلکہ جب ایک سب انسپکٹر نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارا کیا دعویٰ ہے تو اس نے ڈر کی وجہ سے صاف انکار کر دیا کہ میرا کوئی دعوی نہیں ہے۔پس حضرت مسیح موعود کو جو کامیابی اور ناموری حاصل ہوئی۔وہ کسی فریب اور بناوٹ کی وجہ سے نہ تھی۔اگر چہ جھوٹے دعوی کرنے والوں میں سے بھی بعض کا نام مشہور ہو جاتا ہے۔لیکن ان کے دعویٰ رہے میں یہ کشش نہیں ہوتی کہ لوگوں کو کھینچ لائے۔یہ کشش سچا دعوی کرنے والے میں ہی ہوتی ہے۔تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ ان کو کروڑوں کہو تو بھی تھوڑے ہیں۔یہاں بننے والے ہر ایک مکان کی اینٹ اور بھرتی کا ایک ایک روڑا آپ کی صداقت کا نشان ہے۔کیونکہ آپ کی کشش کے علاوہ اور کیا چیز تھی جس نے بہتوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں رہنے پر مجبور کر دیا۔اور ان میں سے کئی ایک نے اپنے ہزاروں روپے کے مکانوں کو کوڑیوں کے مول بیچ کر یہاں مکان بنانے کو بہتر سمجھا۔حضرت خلیفہ اسیح اول جب یہاں آئے تو پیچھے عظیم الشان مکان بنوار۔تھے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔یہیں رہیں۔اس کے بعد انہوں نے وطن جانے کا بھی خیال تک نہ کیا۔تو حضرت مسیح موعود کی صداقت کے خدا تعالیٰ نے اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ جن کو اگر کوئی گننا چاہے تو ہرگز نہیں گن سکتا۔مگر پھر بھی وہ خزانہ ختم نہیں ہوا۔بلکہ بار بار ظاہر ہو کر ہمیں بتاتا ہے کہ احمد للہ رب العالمین کہو۔ابھی خدا تعالیٰ نے ایک تازہ نشان دکھلایا ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انبیاء کے کلام بھی کیسے عظیم الشان نشان ہوتے ہیں۔اور ان کی باتیں خواہ وہ الہام بھی نہ ہوں تو بھی جو ان کی زبان اور قلم پر جاری ہو جائے وہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے ایک نظم لکھی تھی۔اس میں نہایت دردناک طریق سے موجودہ جنگ کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ بھی لکھا تھا کہ ؎ مضمحل ہو جا ئیں گے اس خوف سے سب جن وانس زار بھی ہوگا تو ہوگا اس گھڑی باحال زار ا ذکر حبیب مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔