خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 428

خطبات محمود جلد (5) ۴۲۷ بھی کہا ہے کہ اس کو یہ سورہ دی جائے گی۔دراصل یہ سورہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور آپ کو دی گئی۔اب اس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دینے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ایسے ایسے انعامات دیئے گئے تھے جن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الحمد للہ رب العالمین سکھایا گیا۔اور اس کے نتیجہ میں اور زیادہ انعام دیئے گئے۔اسی طرح اس کے نتائج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی دیئے جائیں گے۔اور اُسے اور اس کی جماعت کو ایسی عظیم الشان فتوحات دی جائیں گی جن کی وجہ سے اس کی اور اس کی جماعت کے لوگوں کی زبان پر الحمد للہ رب العالمین جاری ہو جائے گا۔یہ ہے ابتدا بھی الحمد سے اور انتہا بھی الحمد پر۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جو سامان ترقی ایمان کے لئے خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں۔ان کو دیکھ کر بے اختیار ہمارے منہ سے الحمد للہ رب العالمین نکل جاتا ہے۔کہاں یہ تاریکی اور ظلمت کا زمانہ اور کہاں یہ دہریت اور لا مذہبی کے دن جبکہ انسان کہ اُٹھے تھے کہ خدا کی کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔دنیا کا کارخانہ خود بخود چل رہا ہے۔اور چلتا رہے گا۔ہر ایک کو اپنے علم اور اپنی تحقیقات پر گھمنڈ تھا۔مذہب کو ایک حقیر اور فضول چیز سمجھا جاتا تھا۔ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دین اسلام کو قائم کر کے اپنے جلال اور قدرت کے ظاہر کرنے کے سامان پیدا کر دیئے۔اور اس طرح ہم پر وہ احسان اور فضل کیا کہ جس کے لئے ہم جس قدر بھی اس کی حمد اور تعریف کریں۔تھوڑی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے مسلمان مولوی کہاں ان لوگوں کی قلم کی کششوں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔اسلام ایک ناتواں اور کمزور چیز کی طرح ہو رہا تھا۔جو اُٹھتا اس پر حملے کرنے شروع کر دیتا۔خود مسلمان اسلام کو چھوڑ کر دوسرے مذاہب میں جا رہے تھے مگر حضرت مسیح موعود کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے ایسا احسان کیا کہ وہی دین جو پہلے قابل نفرت سمجھا جاتا تھا۔اس کو جب آنکھیں کھول کر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ اگر کوئی چیز قابل تسلی اور لائق اطمینان ہو سکتی ہے تو وہ مذہب اسلام ہی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہزار ہا نشان اس کی تائید میں دکھائے اور اس قدر دکھائے کہ اگر کوئی گننا چاہے تو ہرگز گن نہیں سکتا۔ایک دفعہ امریکہ سے ایک انگریز حضرت مسیح موعود کو ملنے کے لئے آیا۔اور آ کر کہا کہ آپ مجھے اپنی صداقت کا کوئی نشان دکھلائیے۔آپ نے فرمایا تم بھی میری صداقت کا نشان ہو۔اس نے کہا۔کس طرح؟ آپ نے فرمایا۔ایک زمانہ وہ تھا کہ کوئی مجھے جانتا تک نہ تھا۔اور نہ ہی کوئی میرے پاس آتا تھا۔اس وقت خُدا تعالیٰ نے مجھے الہام کیا کہ یا تون من كل فج عميق و ياتيك من كل فج عمیق ا۔تیرے پاس دُور دُور سے لوگ آئیں گے اور تیرے پاس دور دور سے چیزیں آئیں گی۔اور اس قدر لوگ آئیں گے کہ ان کی آمد و رفت سے راستوں :- تذکرہ ص ۲۹۷۔