خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 33

خطبات محمود جلد (5) ٣٣ طرف سے کوئی عذر نہیں ہے۔دیکھو کیا ہمت اور کیا حوصلہ ہے تو یہ قومیں تمدن قائم رکھنے کے لئے نسل۔مال۔دوست اور مد دسب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ اس مقابلہ کا حال ہے جو انسانوں کا حیوانوں کے مقابلہ میں جسمانی طور پر کہلاتا ہے۔لیکن بتلاؤ کہ حیوانوں کے مقابلہ میں جو روحانی فرق ہے اس کو قائم رکھنے کے لئے کس قدر کوشش اور محنت کی ضرورت ہے۔روحانی مقابلہ یعنی مذہب کے سامنے اس جسمانی مقابلہ یعنی حمدن کی حیثیت ہی کیا ہے اور یہ چیز ہی کیا ہے اس کا اثر تو زیادہ سے زیادہ انسان کی بڑی سے بڑی سوسو اسوسال تک کی زندگی سے ہے۔مگر مذہب کا اثر نہ صرف اس زندگی کے ساتھ ہے بلکہ اس زندگی کے ساتھ بھی ہے جو ابدالآباد تک کی ہے۔پھر تمدن کے لئے جو کوشاں ہے وہ اگر اس جد و جہد میں مرجائے تو اس کے لئے کوئی انعام اور فائدہ نہیں مگر جو خدا تعالیٰ کے قرب کے حاصل کرنے اور صداقت اور راستی کے پھیلانے کے لئے اپنی جان قربان کر دے اس کا انعام کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ملک اور قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جو مارا جاتا ہے۔اس کی ذات خاص کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔اگر اس کا تمام ملک تباہ ہو جائے تو اسے کوئی نقصان نہیں اور اگر بچ جائے تو اسے کوئی نفع نہیں۔مگر مذہب کے لئے جو کوئی اپنی جان اور مال قربان کرتا ہے۔اگر وہ مرجاتا ہے یا مارا جاتا ہے۔تو اسکا انعام بجائے بند اور ضائع ہونے کے اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ تمدن کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کو انعام دینے والے انسان ہیں جن کی طاقت اور قدرت موت سے ورے ورے انعام دے سکتی ہے۔مگر وہ جو مذہب کے لئے قربان ہوتے ہیں ان کا انعام دینے والا خدا ہے جس کا دست تصرف اس دنیا میں بھی ہے اور موت کے بعد آگے بھی۔اس لئے وہ موت کے بعد بھی انعام واکرام دیتا ہے۔ہماری جماعت کے لئے اس زمانہ میں وہ مشکلات نہیں ہیں جو پہلے زمانہ میں اور قوموں کے لئے تھیں۔گو میں سمجھتا ہوں کہ مشکلات کسی نہ کسی رنگ میں ہیں لیکن پہلے جیسی مشکلات ابھی نہیں ہیں۔لیکن تعجب نہیں کہ وہی مشکلات ہماری قوم کو بھی آ جائیں۔جو پہلی قوموں کو پیش آتی رہی ہیں۔کیونکہ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی۔جب تک کہ اسے اتنی ہی قربانیاں نہ کرنی پڑیں۔