خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 397

۳۹۶ خطبات محمود جلد (5) نہیں۔ہاں اگر کمی ہوتی ہے تو انسان کی اپنی طرف سے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے میدان بہت وسیع ہے۔اور انسان جتنا بھی بڑھنے کی کوشش کرے۔اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔اس کے لئے کوئی حد نہیں کہ وہاں جا کر ترقی رک جاتی ہے۔اور آگے نہ بڑھنے کے لئے دروازہ بند ہو جاتا ہے لیکن اگر انسان کے ترقی کرنے اور بڑھنے میں روک ہوتی ہے تو یہی کہ انسان کسی اپنے گناہ اور قصور کی وجہ سے ترقیوں سے اپنے آپ کو محروم کر لیتا ہے۔دنیا میں ایسے انسان موجود ہیں جو ترقی کرنا تو در کنار نیچے ہی نیچے گرنے لگ جاتے ہیں۔بڑا علم سیکھا ہوتا ہے مگر ان کا حافظہ ایسا کمزور ہو جاتا ہے اور حواس ایسے بے کار ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنا نام تک یاد نہیں رہتا۔میں نے ایسے واقعات سُنے ہیں کہ بعض انسانوں کا حافظہ اس قدر کمزور ہو گیا کہ وہ نوٹ بک میں اپنا نام لکھ رکھتے ہیں۔اور جب کوئی ان سے ان کا نام پوچھتا ہے۔تو نوٹ بک کو دیکھ کر بتاتے ہیں۔بعض اتنے بوڑھے ہو جاتے ہیں کہ پاگل ہو جاتے ہیں مگر یہ سب کچھ ان کے اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہوتا ہے۔اور ان کا اپنا قصور ہوتا ہے۔پھر بعض انسان بڑے بڑھتے ہیں۔لیکن ایک وقت جا کر ایسے رکھتے ہیں کہ ایک قدم نہیں اٹھا سکتے۔اس کی یہ وجہ نہیں۔کہ ان کے بڑھنے کا میدان ختم ہو جاتا ہے بلکہ یہ کہ ان کی اپنی کمزوریاں اور گناہ ان کے پاؤں میں زنجیریں ڈال دیتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کے لئے میدان خالی پڑا ہے۔لیکن آگے قدم نہیں رکھ سکتے۔تو ہر ایک ترقی خواہ وہ کسی فرد کی ہو یا جماعت کی ہو۔کہیں نہ کہیں جا کر رکتی ہے۔مگر اس لئے نہیں کہ ترقی کرنے کے سامان اور ذرائع ختم ہو گئے بلکہ اس لئے کہ ترقی کرنے والے نے آپ اپنے پاؤں میں زنجیریں ڈال لیں۔پس اس بات کو خوب یادرکھنا چاہیئے۔کہ جب کوئی ترقی کرنے سے رکتا ہے تو اسی وجہ سے رکتا ہے کہ اپنے پاؤں کو آپ باندھ لیتا ہے اور اُس کے پاؤں آگے نہیں پڑتے بلکہ پیچھے پڑتے ہیں۔اسی بات کی طرف خدا تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں مسلمانوں کو تو جہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّين کہ خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کی کوئی حد بندی نہیں ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ کوئی بھی حمد جوممکن ہے وہ خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہے۔پس جب تمام حمد اللہ کے لئے ہوئی تو اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اللہ کے انعامات کی کوئی حد بندی نہیں ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ کے انعامات کی وسعت کو محدود کر دیا جائے۔اور یہ سمجھ لیا جائے کہ ایک خاص حد تک اس کے انعامات مل سکتے ہیں اور آگے نہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ بعض حمدوں سے خالی ہو جائے گا۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے رب العالمین کہ ہم تمام جہانوں کے رب ہیں۔اگر کوئی بڑا عالم ہے تو اس کے بھی ہم رب ہیں۔اور اگر کوئی لی عقل کا انسان ہے تو اس کے بھی۔اگر کوئی روحانی ترقی میں بہت بڑھ گیا ہے تو اس کے بھی ہم رب ہیں۔اور معمولی