خطبات محمود (جلد 5) — Page 27
خطبات محمود جلد (5) ۲۷ اور نقصان کس میں۔تو انسان اور حیوان میں دو فرق ہیں۔دنیاوی لحاظ سے جو فرق ہے اسے تمدن کہا جاتا ہے یعنی انسان اپنی نسل اور قوم کے فوائد کے لئے دوسرے انسانوں سے مل کر کام کرتا ہے۔چونکہ ایک انسان کے کام سے دوسرے کو نفع پہنچتا ہے اس لئے تمام انسان مل کر یا انسانوں کا ایک بہت بڑا حصہ مل کر ایک دوسرے کے فائدہ اور نفع کی کوشش کرتا ہے لیکن حیوانوں میں یہ بات نہیں ہے یہ صرف انسانوں میں ہی ہے۔دوسرے انسان کو اچھے اور بُرے نیک اور بد نفع اور نقصان میں تمیز کرنے اور اپنے اختیار سے ان دونوں راہوں میں سے ایک پر چلنے والا بنایا گیا ہے لیکن یہ بات حیوانوں میں نہیں ہے۔پس جو انسان انسان ہو کر ان دونوں قسم کے فرقوں کو نہیں جانتا۔وہ جانور سے ممتاز نہیں ہوسکتا اور وہ انسان ہی نہیں ہے بلحاظ جسمانی تعلقات کے اگر انسان میں تمدن نہیں ہے اور بلحاظ روحانی تعلقات کے اگر انسان مذہب اور دین کا پابند نہیں ہے تو اس میں اور سور بندر ریچھ وغیرہ جانوروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔تمدن کے متعلق اس وقت ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت ہے۔یہ ان لوگوں کا کام ہے جو دنیا کے علوم اور فوائد میں منہمک ہیں۔ہمیں سوائے اس کے کہ اس وقت جبکہ تمدن مذہب اور دین میں داخل ہو جائے اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس لئے میں اس وقت مذہب کے متعلق ہی کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔روحانی لحاظ سے انسان اور حیوانوں میں مذہب کا فرق ہے۔انسان کسی نہ کسی مذہب کا قائل ہوتا ہے اور حیوان نہیں ہوتے۔ان کے لئے کوئی تازہ شریعت نہیں آتی۔بلکہ ان کی فطرت میں ہی ابتداء سے جو کچھ ودیعت کر دیا گیا ہے وہی ہے مگر انسان کو وحی اور الہام کے ذریعہ سے شریعت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔اور حیوانوں میں سے ہر ایک کو ایسی وحی کی جاتی ہے جو اس کی فطرت کے متعلق ہوتی ہے۔مگر انسانوں میں سے ایک حصہ کو وحی سے ممتاز کیا جاتا ہے۔یوں تو فطر نا ہر ایک انسان کو بھی وحی کی جاتی ہے مگر وہ وحی جو مذہب کے متعلق ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نہیں ہوتی بلکہ انہی انسانوں کو ہوتی ہے جو حقیقت میں عابد اور عبد بنتے ہیں اور پھر جو اس وحی پر عمل کرتے اور جو مدعا اس میں پایا جاتا ہے اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ دوسرے انسانوں کے لئے