خطبات محمود (جلد 5) — Page 358
خطبات محمود جلد (5) ۳۵۸ تکریم کریں اور ان کے آرام اور آسائش کی کوشش کریں۔اس کے علاوہ یوں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کی تکریم کرنا ایمان میں داخل ہے۔حضرت خدیجہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں جو پانچ باتیں بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ مہمان کی خاطر داری کرتے ہیں اے اس لئے خدا تعالیٰ آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔تو مہمان کی مہمان داری کرنا یوں بھی داخلِ ایمان ہے مگر سالانہ جلسہ پر آنے والے لوگ صرف مہمان ہی نہیں بلکہ شعائر اللہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ہیں حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان ہیں اس لئے ان کی خاص طور پر تعظیم کرنی چاہئیے۔ہمارے دوست جو قادیان میں رہنے والے ہیں ان کو چاہئے کہ خاص طور پر ان کی تواضع اور تکریم کرنے کی کوشش کریں اور آنے والے دوست قادیان کی گلیوں میں پھر کر اور کثیر التعداد مجمع کو دیکھ کر صرف یہ نہ کہیں کہ جلسہ بہت کامیاب ہوا ہے بلکہ فائدہ اُٹھائیں کیونکہ اگر انہوں نے اس موقع سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا تو ان کے لئے کہاں جلسہ کامیاب ہوا۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرنا تقویٰ میں داخل ہے لیکن جو شعائر اللہ کی تعظیم نہیں کرتا وہ کہاں کا میاب ہوا اس کے لئے تو رونے کا مقام ہے کیونکہ اس کو ایک موقع ملا تھا جسے اس نے کھو دیا۔یہاں کے سب لوگوں کو چاہیئے کہ آنے والے مہمانوں کی خدمت کریں اپنے مہمانوں کی خدمت کرنا کوئی ذلت نہیں ہوتی بلکہ مہمان کو کسی قسم کی تکلیف پہنچا میز بانوں کے لئے ذلت ہوتی ہے اس لئے جو شخص یہ خیال رکھتا ہے کہ مہمانوں کی خدمت کرنا میری عزت کے خلاف ہے وہ نادان ہے اور وہ نہیں سمجھتا کہ خدمت کرنا عزت کو بڑھاتا ہے نہ کہ گھٹاتا ہے۔پس میں قادیان کے لوگوں کو اس کی طرف خاص طور پر تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ خاص طور پر مہمانداری میں حصہ لیں اور اپنا گرج کر کے بھی حصہ لیں۔میں یہاں کے دُکانداروں کو دُکانداری سے روکنا پسند نہیں کرتا خدا تعالیٰ نے حج کے موقع پر بھی تجارت کو جائز رکھا ہے قادیان کے دُکانداروں کے لئے بھی یہ تجارت کرنے کا موقع ہے مگر جہاں خدا تعالیٰ ایسے موقعہ پر تجارت کرنے سے منع نہیں کرتا وہاں یہ بھی اجازت نہیں دیتا کہ بالکل اسی میں لگ جائیں۔پس دُکاندار خوب کمائیں اور خوب تجارت کریں مگر کچھ وقت مہمانداری میں بھی صرف کریں۔مثلاً کھانا کھلانے کے وقت دُکانوں کو بند کر دیں اور اس وقت مہمانوں کی خدمت کریں۔اس وقت قریبا تمام مہمان کھانا کھا رہے ہوتے ہیں اور سودا کم خریدتے ہیں اور جو لوگ فارغ ہوں وہ سارے اوقات خدمت گذاری میں لگا ئیں اور ثواب کمائیں مومن کی تو یہ شان ہونی چاہئیے کہ ثواب کمانے کا کوئی موقع نہ جانے دیں۔صحابہ کرام کتنی کوشش کرتے تھے حدیث میں آیا ہے کہ غریب صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ امیر زکوۃ دے دیگر بخاری و مسلم کتاب الایمان باب بدء الوحي الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔